سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
92. باب : الرخصة في لبس الحرير
باب: ریشم پہننے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5313
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَالزُّبَيْرِ فِي قُمُصِ حَرِيرٍ كَانَتْ بِهِمَا , يَعْنِي لِحِكَّةٍ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن اور زبیر رضی اللہ عنہما کو ریشم کی قمیص کی اجازت دی اس مرض یعنی کھجلی کے سبب جو انہیں ہو گئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5313]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کو خارش کی وجہ سے ریشم کی قمیص پہننے کی اجازت دی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5312
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَرْخَصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قُمُصِ حَرِيرٍ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو کھجلی کی وجہ سے جو انہیں ہو گئی تھی ریشم کی قمیص (پہننے) کی اجازت دی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5312]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو خارش کی بنا پر ریشم کی قمیص پہننے کی اجازت دے دی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 91 (2991)، اللباس 29 (5839)، صحیح مسلم/اللباس 3 (2076)، سنن ابی داود/اللباس13(4056)، سنن الترمذی/اللباس 2 (1722)، سنن ابن ماجہ/اللباس17(3592)، (تحفة الأشراف: 1169)، مسند احمد (3/ 215) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ اجازت عذر (کھجلی) کی بنا پر تھی، اس لیے صرف عذر تک کی اجازت رہے گی، عذر ختم ہو جانے کے بعد ایسی قمیص نکال دینی ہو گی، یہ پوری قمیص پہننے کے بارے میں ہے، اور جہاں تک صرف ریشم کے بٹن کی بات ہے تو یہ مردوں کے لیے ہر حالت میں جائز ہے۔ (دیکھئیے حدیث نمبر ۵۳۱۴)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه