سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب : خليط الرطب والزبيب
باب: تازہ کھجور اور کشمش سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5563
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِير، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَنْبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ، وَلَا تَنْبِذُوا الرُّطَبَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچی اور پکی کھجور ملا کر نبیذ نہ بناؤ، اور نہ ہی تازہ کھجور اور کشمش ملا کر نبیذ بناؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5553 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5553
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ التَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ، وَلَا بَيْنَ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوکھی کھجور اور انگور کو ملا کر نبیذ نہ بناؤ، اور نہ ہی کچی اور تازہ کھجور کو ملا کر نبیذ بناؤ“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الَٔشربة 11 (5602)، صحیح مسلم/الٔرشربة 5 (1988)، سنن ابی داود/الأشربة 8 (3704) (موقوفا ومرفوعا)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 11(3397)، موطا امام مالک/الأشربة 3 (8)، مسند احمد (295، 307، 309، 310)، سنن الدارمی/الأشربة: 15 (2159)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5563، 5569، 5570) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ ملانے سے ان دونوں میں تیزی سے نشہ پیدا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5554
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَنْبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا، وَلَا تَنْبِذُوا الزَّبِيبَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچی اور تازہ کھجور ایک ساتھ ملا کر نبیذ نہ بناؤ، اور نہ انگور اور تازہ کھجور ملا کر نبیذ بناؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12137) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5568
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُ شَيْئًا قَدْ أَرْطَبَ إِلَّا عَزَلَهُ عَنْ فَضِيخِهِ".
حمید سے روایت ہے کہ انس رضی اللہ عنہ جس قدر کھجور کا حصہ پک چکا ہوتا اسے فضیخ سے نکال پھینکتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 715) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: فضیخ ادھ کچی کھجور کے نبیذ کو بھی بولتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5570
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ، وَخَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ"، وَقَالَ:" لِتَنْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ فِي الْأَسْقِيَةِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور سوکھی کھجور سے اور ادھ کچی اور سوکھی کھجور سے نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”تم ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ بھگویا کرو ان مشکوں میں جن کے منہ دھاگے سے بندھے ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5553 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح