سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب : النهى عن نبيذ الجر مفردا
باب: مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5617
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ:" أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟، قَالَ: نَعَمْ"، قَالَ طَاوُسٌ: وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں، طاؤس کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اسے میں نے ان سے (ابن عمر سے) سنا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5617]
حضرت طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ حضرت طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ (الفاظ) ان (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے سنے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الٔمشربة 6 (1997)، سنن الترمذی/الٔلشربة 4 (1867)، (تحفة الٔعشراف: 7098)، مسند احمد (2/29، 35، 47، 56، 101، 106، 115، 155) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے خطرہ رہتا ہے کہ فوراً نشہ پیدا ہو جائے اور آدمی کو پتہ نہ چلے اور نشہ لانے والی نبیذ پی بیٹھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5618
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , قَالَا: سَمِعْنَا طَاوُسًا، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟، قَالَ: نَعَمْ"، زَادَ إِبْرَاهِيمُ فِي حَدِيثِهِ: وَالدُّبَّاءِ.
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ابراہیم بن میسرہ نے اپنی حدیث میں «والدباء» مزید کہا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5618]
حضرت طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ (ایک راوی) ابراہیم بن میسرہ نے اپنی حدیث میں کدو کے برتن کا بھی ذکر کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کدو کی تونبی سے بھی منع فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح