🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب : النهى عن الصلاة بعد العصر
باب: عصر کے بعد نماز کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 573
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ، قَالُوا: سَمِعْنَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، يقول: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَقْرَبُ مِنَ الْأُخْرَى أَوْ هَلْ مِنْ سَاعَةٍ يُبْتَغَى ذِكْرُهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِنَّ أَقْرَبَ مَا يَكُونُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعَبْدِ جَوْفَ اللَّيْلِ الْآخِرَ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ، فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، وَهِيَ سَاعَةُ صَلَاةِ الْكُفَّارِ فَدَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى تَرْتَفِعَ قِيدَ رُمْحٍ وَيَذْهَبَ شُعَاعُهَا، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تَعْتَدِلَ الشَّمْسُ اعْتِدَالَ الرُّمْحِ بِنِصْفِ النَّهَارِ، فَإِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَتُسْجَرُ فَدَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى يَفِيءَ الْفَيْءُ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغِيبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَهِيَ صَلَاةُ الْكُفَّارِ".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں دوسری گھڑیوں کی بنسبت اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ ہوتا ہو، یا کوئی ایسا وقت ہے جس میں اللہ کا ذکر مطلوب ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اللہ عزوجل بندوں کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصہ میں ہوتا ہے، اگر تم اس وقت اللہ عزوجل کو یاد کرنے والوں میں ہو سکتے ہو تو ہو جاؤ، کیونکہ فجر میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور سورج نکلنے تک رہتے ہیں، (پھر چلے جاتے ہیں) کیونکہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، اور یہ کافروں کی نماز کا وقت ہے، لہٰذا (اس وقت) تم نماز نہ پڑھو، یہاں تک کہ سورج نیزہ کے برابر بلند ہو جائے، اور اس کی شعاع جاتی رہے پھر نماز میں فرشتے حاضر ہوتے، اور موجود رہتے ہیں یہاں تک کہ ٹھیک دوپہر میں سورج نیزہ کی طرح سیدھا ہو جائے، تو اس وقت بھی نماز نہ پڑھو، یہ ایسا وقت ہے جس میں جہنم کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور وہ بھڑکائی جاتی ہے، تو اس وقت بھی نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ سایہ لوٹنے لگ جائے، پھر نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور موجود رہتے ہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، کیونکہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے درمیان ڈوبتا ہے، اور وہ کافروں کی نماز کا وقت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 573]
حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ، حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا کوئی گھڑی دوسری گھڑی سے زیادہ قرب والی ہے؟ یا کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں خصوصاً اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تحقیق اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے سب سے زیادہ قریب نصف رات کے بعد ہوتا ہے۔ اگر تم طاقت رکھو کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں میں شامل ہو تو ضرور ایسا کرو کیونکہ اس نماز میں فرشتے حاضر اور موجود ہوتے ہیں۔ یہ وقت طلوعِ شمس تک رہتا ہے کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور یہ کافروں کی عبادت کا وقت ہے، لہٰذا اس وقت نماز چھوڑ دو حتیٰ کہ سورج ایک نیزے کے بقدر اونچا ہو جائے اور اس کی شعاعیں ختم ہو جائیں۔ پھر نماز کا وقت آ جاتا ہے اور فرشتے حاضر ہوتے ہیں حتیٰ کہ سورج دوپہر کے وقت نیزے کی طرح سیدھا سر پر آ جاتا ہے تو اس وقت جہنم کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کی آگ بھڑکائی جاتی ہے، چنانچہ تم نماز چھوڑ دو حتیٰ کہ سایہ ڈھل جائے، پھر نماز کا وقت آ جاتا ہے اور فرشتے حاضر ہوتے ہیں حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور یہ کافروں کی نماز کا وقت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي: (تحفة الأشراف: 10761)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 52 (832) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 299 (1277)، سنن الترمذی/الدعوات 119 (3574)، (مختصراً)، سنن ابن ماجہ/إقامة 182 (1364)، مسند احمد 4/111، 114 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 581
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قالت:" شُغِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ، فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے والی دو رکعت نہیں پڑھ سکے، تو انہیں عصر کے بعد پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 581]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن) عصر سے پہلے (ظہر کے بعد) کی دو رکعتوں سے مصروف رہے تو آپ نے انہیں عصر کے بعد ادا فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18193)، مسند احمد 6/306 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں