🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب ما جاء حفت الجنة بالمكاره وحفت النار بالشهوات
باب: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2559
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، وَثَابِتٍ , عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ، وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھری ہوئی ہے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنة 1 (2822) (تحفة الأشراف: 329، و 615)، و مسند احمد (3/153، 254، 284) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھری ہوئی ہے جیسے ایک مثال: سخت سردیوں میں نماز فجر وہ بھی جماعت سے کتنی تکلیف دہ ہے، مگر جنت ایسے ہی لوگوں کو ملے گی، اور آنکھ یا شرمگاہ سے حرام لذت کوشی میں کتنی لذت ہے، مگر اس عمل پر اگر توبہ نہ ہو تو جہنم ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3037
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: " مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ سورة النساء آية 48 "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو فَاخِتَةَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلَاقَةَ، وَثُوَيْرٌ يُكْنَى أَبَا جَهْمٍ وَهُوَ رَجُلٌ كُوفِيٌّ مِنَ التَّابِعِينَ، وَقَدْ سَمِعَ مِنَ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ كَانَ يَغْمِزُهُ قَلِيلًا.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قرآن میں کوئی آیت مجھے اس آیت: «إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء» اللہ اس بات کو معاف نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، ہاں اس کے سوا جس کسی بھی چیز کو چاہے گا معاف کر دے گا (النساء: ۱۱۶)، سے زیادہ محبوب و پسندیدہ نہیں ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے،
۳- ثویر کی کنیت ابوجہم ہے اور وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں تابعی ہیں اور ابن عمر اور ابن زبیر سے ان کا سماع ہے، ابن مہدی ان پر کچھ طعن کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10111) (ضعیف الإسناد) (سند میں ثویر شیعی اور ضعیف راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(3037) إسناده ضعيف
ثوير ضعيف رافضي (تقدم: 501)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں