سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب ومن سورة التين
باب: سورۃ والتین سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3347
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، قَال: سَمِعْتُ رَجُلًا بَدَوِيًّا أَعْرَابِيًّا، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَرْوِيهِ يَقُولُ: " مَنْ قَرَأَ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ، فَقَرَأَ: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ سورة التين آية 8، فَلْيَقُلْ: بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا يُرْوَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ هَذَا الْأَعْرَابِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَا يُسَمَّى.
اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک بدوی اعرابی کو کہتے ہوئے سنا، میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو اسے روایت کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے تھے جو شخص (سورۃ) «والتين والزيتون» پڑھے اور پڑھتے ہوئے «أليس الله بأحكم الحاكمين» تک پہنچے تو کہے: «بلى وأنا على ذلك من الشاهدين» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اسی اعرابی سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے مروی ہے اور اس اعرابی کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3347]
یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اسی اعرابی سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے مروی ہے اور اس اعرابی کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 154 (887) (تحفة الأشراف: 15500) (ضعیف) (اس کا ایک راوی مبہم شخص ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ضعيف أبي داود (156) // عندنا (188 / 887) //
قال الشيخ زبير على زئي:(3347) إسناده ضعيف
رجل بدوي أعرابي : مجهول (المجموع شرح المهذب 67/4)
رجل بدوي أعرابي : مجهول (المجموع شرح المهذب 67/4)
حدیث نمبر: 3428
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ فَلَقِيَنِي أَخِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ دَخَلَ السُّوقَ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَرَفَعَ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هَذَا الْحَدِيثَ نَحْوَهُ.
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھی: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير» ”نہیں کوئی معبود برحق ہے مگر اللہ اکیلا، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کے لیے ملک (بادشاہت) ہے اور اسی کے لیے حمد و ثناء ہے وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے، وہ زندہ ہے کبھی مرے گا نہیں، اسی کے ہاتھ میں ساری بھلائیاں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے“، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند فرماتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- عمرو بن دینار زبیر رضی الله عنہ کے گھر والوں کے آمد و خرچ کے منتظم تھے، انہوں نے یہ حدیث سالم بن عبداللہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3428]
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- عمرو بن دینار زبیر رضی الله عنہ کے گھر والوں کے آمد و خرچ کے منتظم تھے، انہوں نے یہ حدیث سالم بن عبداللہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/التجارات 40 (2235) (تحفة الأشراف: 10528) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (2235)
قال الشيخ زبير على زئي:(3428) إسناده ضعيف
أزهر بن سنان: ضعيف (تق:309)
أزهر بن سنان: ضعيف (تق:309)