الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: غسل اور تیمم کے احکام و مسائل
The Book of Ghusl and Tayammum
5. بَابُ : الاِغْتِسَالِ قَبْلَ النَّوْمِ
5. باب: سونے سے پہلے غسل کرنے کا بیان۔
Chapter: Performing Ghusl Before Going To Sleep
حدیث نمبر: 404
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا شعيب بن يوسف، قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، عن عبد الله بن ابي قيس، قال: سالت عائشة: كيف كان نوم رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجنابة، ايغتسل قبل ان ينام او ينام قبل ان يغتسل؟ قالت: كل ذلك قد كان يفعل" ربما اغتسل فنام وربما توضا فنام".
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ، أَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ" رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ".
عبداللہ بن ابوقیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حالت جنابت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے سوتے تھے؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل سے پہلے سوتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب کرتے تھے، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی (صرف) وضو کر کے سو جاتے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 6(307)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 23 (2924)، (تحفة الأشراف 16280)، وقدأخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 343 (1437) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 223
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا عمرو بن هشام، قال: حدثنا مخلد، عن سفيان، عن ابي العلاء، عن عبادة بن نسي، عن غضيف بن الحارث، انه سال عائشة رضي الله عنها: اي الليل كان يغتسل رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت:" ربما اغتسل اول الليل وربما اغتسل آخره"، قلت: الحمد لله الذي جعل في الامر سعة.
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَيُّ اللَّيْلِ كَانَ يَغْتَسِلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" رُبَّمَا اغْتَسَلَ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ آخِرَهُ"، قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.
غضیف بن حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کس حصہ میں غسل کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کیا، اور کبھی آخری حصہ میں کیا، میں نے کہا: شکر ہے اس اللہ تعالیٰ کا جس نے معاملہ میں وسعت اور گنجائش رکھی ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 90 (226) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الصلاة 179 (1354)، (تحفة الأشراف: 17429)، مسند احمد 6/138، ویأتي عند المؤلف برقم: 405 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 224
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال: حدثنا حماد، عن برد، عن عبادة بن نسي، عن غضيف بن الحارث، قال: دخلت على عائشة رضي الله عنها فسالتها، قلت: اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل من اول الليل او من آخره؟ قالت: كل ذلك" ربما اغتسل من اوله وربما اغتسل من آخره"، قلت: الحمد لله الذي جعل في الامر سعة.
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلْتُهَا، قُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ" رُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ أَوَّلِهِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ آخِرِهِ"، قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصہ میں؟ تو انہوں نے کہا: دونوں وقتوں میں کرتے تھے، کبھی رات کے شروع میں غسل کرتے اور کبھی رات کے آخر میں، میں نے کہا: شکر ہے اس اللہ رب العزت کا جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17429) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 405
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال: حدثنا حماد، عن برد، عن عبادة بن نسي، عن غضيف بن الحارث، قال: دخلت على عائشة، فسالتها، فقلت: اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل من اول الليل او من آخره؟ قالت: كل ذلك كان" ربما اغتسل من اوله وربما اغتسل من آخره". قلت: الحمد لله الذي جعل في الامر سعة.
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلْتُهَا، فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ كَانَ" رُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ أَوَّلِهِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ آخِرِهِ". قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو میں نے ان سے سوال کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ تو انہوں نے کہا: دونوں طرح سے (کرتے تھے)، کبھی رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے، اور کبھی آخری حصہ میں، اس پر میں نے کہا: اس اللہ کی تعریف ہے جس نے شریعت مطہرہ والے معاملہ کے اندر گنجائش رکھی ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 223 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.