الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: عیدین کے احکام و مسائل
The Book on the Two Eids
38. باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الْخُرُوجِ
38. باب: عیدالفطر کے دن نکلنے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 543
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا قتيبة، حدثنا هشيم، عن محمد بن إسحاق، عن حفص بن عبيد الله بن انس، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان " يفطر على تمرات يوم الفطر قبل ان يخرج إلى المصلى ". قال ابو عيسى: هذا حديث حسن غريب صحيح.حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُفْطِرُ عَلَى تَمَرَاتٍ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْمُصَلَّى ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نماز کے لیے نکلنے سے پہلے چند کھجوریں کھا لیتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف وانظر صحیح البخاری/العیدین 4 (953)، وسنن ابن ماجہ/الصوم 49 (1753)، (تحفة الأشراف: 548) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1754)
حدیث نمبر: 542
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا الحسن بن الصباح البزار البغدادي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، عن ثواب بن عتبة، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال: " كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم ولا يطعم يوم الاضحى حتى يصلي ". قال: وفي الباب عن علي، وانس. قال ابو عيسى: حديث بريدة بن حصيب الاسلمي حديث غريب. وقال محمد: لا اعرف لثواب بن عتبة غير هذا الحديث، وقد استحب قوم من اهل العلم ان لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم شيئا ويستحب له ان يفطر على تمر، ولا يطعم يوم الاضحى حتى يرجع.حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ ثَوَابِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ وَلَا يَطْعَمُ يَوْمَ الْأَضْحَى حَتَّى يُصَلِّيَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الْأَسْلَمِيِّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وقَالَ مُحَمَّدٌ: لَا أَعْرِفُ لِثَوَابِ بْنِ عُتْبَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدِ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا يَخْرُجَ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ شَيْئًا وَيُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ يُفْطِرَ عَلَى تَمْرٍ، وَلَا يَطْعَمَ يَوْمَ الْأَضْحَى حَتَّى يَرْجِعَ.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کھا نہ لیتے نکلتے نہیں تھے اور عید الاضحی کے دن جب تک نماز نہ پڑھ لیتے کھاتے نہ تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- بریدہ بن حصیب اسلمی رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے،
۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ثواب بن عتبہ کی اس کے علاوہ کوئی حدیث مجھے نہیں معلوم،
۳- اس باب میں علی اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،
۴- بعض اہل علم نے مستحب قرار دیا ہے کہ آدمی عید الفطر کی نماز کے لیے کچھ کھائے بغیر نہ نکلے اور اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ کھجور ۱؎ کا ناشتہ کرے اور عید الاضحی کے دن نہ کھائے جب تک کہ لوٹ کر نہ آ جائے۔

تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/الصیام 49 (1754)، (تحفة الأشراف: 1754) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: برصغیر ہند و پاک کے مسلمانوں نے پتہ نہیں کہاں سے یہ حتمی رواج بنا ڈالا ہے کہ سوئیاں کھا کر عید گاہ جاتے ہیں، اور آ کر بھی کھاتے کھلاتے ہیں، اس رواج کی اس حد تک پابندی کی جاتی ہے کہ عیدالفطر اور سوئیاں لازم ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں، جیسے عید الاضحی میں گوشت، اس حد تک پابندی بدعت کے زمرے میں داخل ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1756)

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.