قرآن مجيد
سورة الأنبياء
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
101 |
بے شک وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی طے ہو چکی، وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
102 |
وہ اس کی آہٹ نہیں سنیں گے اور وہ اس میں جسے ان کے دل چاہیں گے، ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
103 |
انھیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی اور انھیں (آگے سے) لینے کے لیے فرشتے آئیں گے۔ یہ ہے تمھارا وہ دن جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
104 |
جس دن ہم آسمان کو کاتب کے کتابوں کو لپیٹنے کی طرح لپیٹ دیں گے۔ جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کی ابتدا کی (اسی طرح) ہم اسے لوٹائیں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، یقینا ہم ہمیشہ (پورا) کرنے والے ہیں۔
|
|
105 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ یہ زمین، اس کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔
|
|
106 |
بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا عظیم پیغام ہے جو عبادت کرنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
107 |
اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر جہانوں پر رحم کرتے ہوئے۔
|
ابن کثیر ↑
|
108 |
کہہ دے میری طرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک معبود ہے، تو کیا تم فرماں برداری کرنے والے ہو؟
|
|
109 |
پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دے میں نے تمھیں اس طرح خبردار کر دیا ہے کہ (ہم تم) برابر ہیں اور میں نہیں جانتا آیا قریب ہے یا دور، جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
110 |
بے شک وہ بلند آواز سے کی ہوئی بات کو جانتا ہے اور وہ بھی جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
111 |
اور میں نہیں جانتا شاید یہ تمھارے لیے ایک آزمائش ہو اور ایک وقت تک کچھ فائدہ اٹھانا ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
112 |
اس نے کہا اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ فرما اور ہمارا رب ہی وہ بے حد مہربان ہے جس سے ان باتوں پر مدد طلب کی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|