قرآن مجيد
سورة الزخرف
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
حم۔
|
|
2 |
اس کتاب کی قسم جو کھول کر بیان کرنے والی ہے!
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنایا، تاکہ تم سمجھو۔
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
اور بے شک وہ ہمارے پاس اصل کتاب میں یقینا بہت بلند، کمال حکمت والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
تو کیا ہم تم سے اس نصیحت کو ہٹا لیں، اعراض کرتے ہوئے، اس وجہ سے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
6 |
اور کتنے ہی نبی ہم نے پہلے لوگوں میں بھیجے۔
|
ابن کثیر ↑
|
7 |
اور ان کے پاس کوئی نبی نہیں آتا تھا مگر وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
تو ہم نے ان سے زیادہ سخت پکڑ والوں کو ہلاک کر دیا اور پہلے لوگوں کی مثال گزر چکی۔
|
ابن کثیر ↑
|
9 |
اور بلا شبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقینا ضرور کہیں گے کہ انھیں سب پر غالب، سب کچھ جاننے والے نے پیدا کیا ہے۔
|
|
10 |
وہ جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمھارے لیے راستے بنائے، تاکہ تم راہ پاؤ۔
|
ابن کثیر ↑
|
11 |
اور وہ جس نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ ایک مردہ شہر کو زندہ کر دیا، اسی طرح تم نکالے جاؤ گے۔
|
|
12 |
اور وہ جس نے سب کے سب جوڑے پیدا کیے اور تمھارے لیے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
13 |
تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو، پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو، جب ان پر جم کر بیٹھ جاؤ اور کہو پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہیں تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
15 |
اور انھوں نے اس کے لیے اس کے بعض بندوں کو جز بنا ڈالا، بے شک انسان یقینا صریح ناشکرا ہے۔
|
|
16 |
یا اس نے اس (مخلوق) میںسے جسے وہ پید اکرتا ہے (خود) بیٹیاں رکھ لیں اور تمھیں بیٹوں کے لیے چن لیا؟
|
ابن کثیر ↑
|
17 |
حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جائے جس کی اس نے رحمان کے لیے مثال بیان کی ہے تو اس کا منہ سارا دن سیاہ رہتا ہے اور وہ غم سے بھر ا ہوتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
18 |
اور کیا (اس نے اسے رحمان کی اولاد قرار دیا ہے) جس کی پرورش زیور میں کی جاتی ہے اور وہ جھگڑے میں بات واضح کرنے والی نہیں؟
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
اور انھوں نے فرشتوں کو، وہ جو رحمان کے بندے ہیں، عورتیں بنا دیا، کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے؟ ان کی گواہی ضرور لکھی جائے گی اور وہ پوچھے جائیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
20 |
اور انھوں نے کہا اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انھیں اس کے بارے میںکچھ علم نہیں، وہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
21 |
یا کیاہم نے انھیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے؟ پس وہ اسے مضبوطی سے تھامنے والے ہیں۔
|
|
22 |
بلکہ انھوں نے کہا کہ بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور بے شک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں پر راہ پانے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
اور اسی طرح ہم نے تجھ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر اس کے خوش حال لوگوں نے کہا کہ بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا اور بے شک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں کے پیچھے چلنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
24 |
اس نے کہا اور کیا اگر میں تمھارے پاس اس سے زیادہ سیدھا راستہ لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا؟انھوں نے کہا بے شک ہم اس سے جو دے کر تم بھیجے گئے ہو، منکر ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
25 |
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا، سو دیکھ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
|
ابن کثیر ↑
|
26 |
اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا بے شک میں ان چیزوں سے بالکل بری ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
|
|
27 |
سوائے اس کے جس نے مجھے پیدا کیا، پس بے شک وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
28 |
اور اس نے اس (توحید کی بات) کو اپنے پچھلوں میں باقی رہنے والی بات بنا دیا، تاکہ وہ رجوع کریں۔
|
ابن کثیر ↑
|
29 |
بلکہ میں نے انھیں اور ان کے باپ داداکو برتنے کا سامان دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق آگیا اور وہ رسول جو کھول کر بیان کرنے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
اور جب ان کے پاس حق آیا تو انھوں نے کہا یہ جادو ہے اور بے شک ہم اس سے منکر ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
31 |
اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟
|
ابن کثیر ↑
|
32 |
کیا وہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں؟ ہم نے خود ان کے درمیان ان کی معیشت دنیا کی زندگی میں تقسیم کی اور ان میں سے بعض کو بعض پر درجوں میں بلند کیا، تاکہ ان کا بعض، بعض کو تابع بنالے اور تیرے رب کی رحمت ان چیزوں سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
|
|
33 |
اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی امت ہو جائیں گے تو یقینا ہم ان لوگوں کے لیے جو رحمان کے ساتھ کفر کرتے ہیں، ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں بھی، جن پر وہ چڑھتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی، جن پر وہ تکیہ لگاتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
35 |
(چاندی کے بنا دیتے) اور سونے کے اور یہ سب کچھ دنیا کی زندگی کے سامان کے سوا کچھ نہیں اور آخرت تیرے رب کے ہاں متقی لوگوں کے لیے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
36 |
اور جو شخص رحمن کی نصیحت سے اندھا بن جائے ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں، پھر وہ اس کے ساتھ رہنے والا ہوتا ہے۔
|
|
37 |
اور بے شک وہ ضرور انھیں اصل راستے سے روکتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بے شک وہ سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں ۔
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا اے کاش! میرے درمیان اور تیرے درمیا ن دو مشرقوں کا فاصلہ ہوتا، پس وہ برا ساتھی ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
39 |
اور آج یہ بات تمھیں ہرگز نفع نہ دے گی، جب کہ تم نے ظلم کیا کہ بے شک تم (سب) عذاب میں شریک ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
پھر کیا تو بہروں کو سنائے گا، یا اندھوں کو راہ دکھائے گا اور ان کو جو صاف گمراہی میں پڑے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
پس اگر کبھی ہم تجھے لے ہی جائیں تو بے شک ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں۔
|
|
42 |
یا ہم واقعی تجھے وہ ( عذاب) دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تو بے شک ہم ان پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
43 |
پس تو اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھ جو تیری طرف وحی کیا گیا ہے، یقینا تو سیدھے راستے پر ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
44 |
اور بلاشبہ وہ یقینا تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ایک نصیحت ہے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا ۔
|
ابن کثیر ↑
|
45 |
اور ان سے پوچھ جنھیں ہم نے تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا، کیاہم نے رحمان کے سوا کوئی معبود بنائے ہیں، جن کی عبادت کی جائے؟
|
ابن کثیر ↑
|
46 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو اس نے کہا بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا بھیجا ہوا ہوں۔
|
|
47 |
تو جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آیا، اچانک وہ ان کے بارے میں ہنس رہے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
48 |
اور ہم انھیں کوئی نشانی نہیں دکھلاتے تھے مگر وہ اپنے جیسی (پہلی نشانی) سے بڑی ہوتی اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، تاکہ وہ لوٹ آئیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
49 |
اور انھوں نے کہا اے جادوگر! ہمارے لیے اپنے رب سے اس کے ذریعے دعا کر جو اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے، بے شک ہم ضرور ہی سیدھی راہ پر آنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
50 |
پھر جب ہم ان سے عذاب ہٹالیتے، اچانک وہ عہد توڑ دیتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|