اور اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے، پھر اسے اس کی امن کی جگہ پر پہنچا دے۔ یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے۔[6]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِنۡ
اَحَدٌ
مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ
اسۡتَجَارَکَ
فَاَجِرۡہُ
حَتّٰی
یَسۡمَعَ
کَلٰمَ
اللّٰہِ
ثُمَّ
اَبۡلِغۡہُ
مَاۡمَنَہٗ
ذٰلِکَ
بِاَنَّہُمۡ
قَوۡمٌ
لَّایَعۡلَمُوۡنَ
اور اگر
کوئی ایک
مشرکین میں سے
پناہ مانگے آپ سے
تو پناہ دےدیجیے اسے
یہاں تک کہ
وہ سن لے
کلام
اللہ کا
پھر
پہنچا دیجیے اسے
اس کے امن کی جگہ
یہ
بوجہ اس کے کہ وہ
لوگ
نہیں وہ علم رکھتے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِنۡ
اَحَدٌ
مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ
اسۡتَجَارَکَ
فَاَجِرۡہُ
حَتّٰی
یَسۡمَعَ
کَلٰمَ
اللّٰہِ
ثُمَّ
اَبۡلِغۡہُ
مَاۡمَنَہٗ
ذٰلِکَ
بِاَنَّہُمۡ
قَوۡمٌ
لَّایَعۡلَمُوۡنَ
اور اگر
کوئی ایک
مشر کوں میں سے
پناہ مانگے آپ سے
تو تم پناہ دے دو اسے
یہاں تک کہ
وہ سنے
کلام
اللہ تعالیٰ کا
پھر
تم پہنچا دو اسے
امن کی جگہ اُ س کی
یہ
اس وجہ سے ہے کہ یقیناً وہ
لوگ
نہیں علم رکھتے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِنْ
اَحَدٌ
مِّنَ
الْمُشْرِكِيْنَ
اسْتَجَارَكَ
فَاَجِرْهُ
حَتّٰي
يَسْمَعَ
كَلٰمَ اللّٰهِ
ثُمَّ
اَبْلِغْهُ
مَاْمَنَهٗ
ذٰلِكَ
بِاَنَّهُمْ
قَوْمٌ
لَّا يَعْلَمُوْنَ
اور اگر
کوئی
سے
مشرکین
آپ سے پناہ مانگے
تو اسے پناہ دیدو
یہانتک کہ
وہ سن لے
اللہ کا کلام
پھر
اسے پہنچا دیں
اس کی امن کی جگہ
یہ
اس لیے کہ وہ
لوگ
علم نہیں رکھتے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]