اور کاش کہ وہ اس پر راضی ہو جاتے جو انھیں اللہ اور اس کے رسول نے دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے، جلد ہی اللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی۔ بے شک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں۔[59]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡ
اَنَّہُمۡ
رَضُوۡا
مَاۤ
اٰتٰىہُمُ
اللّٰہُ
وَرَسُوۡلُہٗ
وَقَالُوۡا
حَسۡبُنَا
اللّٰہُ
سَیُؤۡتِیۡنَا
اللّٰہُ
مِنۡ فَضۡلِہٖ
وَرَسُوۡلُہٗۤ
اِنَّاۤ
اِلَی اللّٰہِ
رٰغِبُوۡنَ
اور کاش
یہ کہ وہ
وہ راضی ہو جاتے
اس پر جو
دیا انہیں
اللہ نے
اور اس کے رسول نے
اور وہ کہتے
کافی ہے ہمیں
اللہ
عنقریب دے گا ہمیں
اللہ
اپنے فضل سے
اور اس کا رسول (بھی)
بےشک ہم
طرف اللہ کی
رغبت کرنے والے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡ
اَنَّہُمۡ
رَضُوۡا
مَاۤ
اٰتٰىہُمُ
اللّٰہُ
وَرَسُوۡلُہٗ
وَقَالُوۡا
حَسۡبُنَا
اللّٰہُ
سَیُؤۡتِیۡنَا
اللّٰہُ
مِنۡ فَضۡلِہٖ
وَرَسُوۡلُہٗۤ
اِنَّاۤ
اِلَی اللّٰہِ
رٰغِبُوۡنَ
اور کاش
واقعی وہ
راضی ہو جاتے
اس پر جو
دیا ہے اُ نہیں
اللہ تعالیٰ نے
اور اُس کے رسول نے
اور وہ کہتے
کافی ہے ہمیں
اللہ تعالیٰ
عنقریب عطا کرے گا ہمیں
اللہ تعالیٰ
اپنے فضل سے
اور اُس کارسول
یقیناً ہم
طرف اللہ تعالیٰ کی
رغبت رکھنے والے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَلَوْ
اَنَّهُمْ
رَضُوْا
مَآ
اٰتٰىهُمُ
اللّٰهُ
وَرَسُوْلُهٗ
وَقَالُوْا
حَسْبُنَا
اللّٰهُ
سَيُؤْتِيْنَا
اللّٰهُ
مِنْ
فَضْلِهٖ
وَرَسُوْلُهٗٓ
اِنَّآ
اِلَى
اللّٰهِ
رٰغِبُوْنَ
کیا اچھا ہوتا
اگر وہ
راضی ہوجاتے
جو
انہیں دیا
اللہ
اور اس کا رسول
اور وہ کہتے
ہمیں کافی ہے
اللہ
اب ہمیں دے گا
اللہ
سے
اپنا فضل
اور اس کا رسول
بیشک ہم
طرف
اللہ
رغبت رکھتے ہیں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]