اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ کرلے تو کوئی اس کے فضل کو ہٹانے والا نہیں، وہ اسے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے پہنچا دیتا ہے اور وہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔[107]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِنۡ
یَّمۡسَسۡکَ
اللّٰہُ
بِضُرٍّ
فَلَا
کَاشِفَ
لَہٗۤ
اِلَّا
ہُوَ
وَاِنۡ
یُّرِدۡکَ
بِخَیۡرٍ
فَلَا
رَآدَّ
لِفَضۡلِہٖ
یُصِیۡبُ
بِہٖ
مَنۡ
یَّشَآءُ
مِنۡ عِبَادِہٖ
وَہُوَ
الۡغَفُوۡرُ
الرَّحِیۡمُ
اور اگر
پہنچائے آپ کو
اللہ
کوئی تکلیف
تو نہیں
کوئی ہٹانے والا
اسے
مگر
وہی
اور اگر
وہ ارادہ کریں آپ کے ساتھ
کسی بھلائی کا
تو نہیں
کوئی پھیرنے والا
اس کے فضل کو
وہ پہنچاتا ہے
اسے
جسے
وہ چاہتا ہے
اپنے بندوں میں سے
اور وہ
بہت بخشنے والا ہے
نہایت رحم کرنے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِنۡ
یَّمۡسَسۡکَ
اللّٰہُ
بِضُرٍّ
فَلَا کَاشِفَ
لَہٗۤ
اِلَّا
ہُوَ
وَاِنۡ
یُّرِدۡکَ
بِخَیۡرٍ
فَلَا
رَآدَّ
لِفَضۡلِہٖ
یُصِیۡبُ
بِہٖ
مَنۡ یَّشَآءُ
مِنۡ عِبَادِہٖ
وَہُوَ
الۡغَفُوۡرُ
الرَّحِیۡمُ
اور اگر
پہنچائے آپ کو
اللہ تعالیٰ
کوئی نقصان
تو نہیں کوئی دور کرنے والا
اسے
سوائے
اس کے
اور اگر
وہ ارادہ کرے آپ سے
کسی بھلائی کا
تو نہیں
کوئی ہٹانے والا
اس کے فضل کو
وہ پہنچاتا ہے
اس کو
جیسے وہ چاہتا ہے
اپنے بندوں میں سے
اور وہ
بے حد بخشنے والا
نہایت رحم والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِنْ
يَّمْسَسْكَ
اللّٰهُ
بِضُرٍّ
فَلَا كَاشِفَ
لَهٗٓ
اِلَّا ھُوَ
وَاِنْ
يُّرِدْكَ
بِخَيْرٍ
فَلَا رَآدَّ
لِفَضْلِهٖ
يُصِيْبُ
بِهٖ
مَنْ
يَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِهٖ
وَھُوَ
الْغَفُوْرُ
الرَّحِيْمُ
اور اگر
پہنچائے تجھے
اللہ
کوئی نقصان
تو نہیں ہٹانے والا
اس کا
اس کے سوا
اور اگر
تیرا چاہے
بھلا
تو نہیں کوئی روکنے والا
اس کے فضل کو
وہ پہنچاتا ہے
اس کو
جسے
چاہتا ہے
سے
اپنے بندے
اور وہ
بخشنے والا
نہایت مہربان
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]