اے قید خانے کے دو ساتھیو! تم میں سے جو ایک ہے سو وہ اپنے مالک کو شراب پلائے گا اور جو دوسرا ہے سو اسے سولی دی جائے گی، پس پرندے اس کے سر میں سے کھائیں گے۔ اس کام کا فیصلہ کر دیا گیا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو۔[41]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
یٰصَاحِبَیِ
السِّجۡنِ
اَمَّاۤ
اَحَدُ کُمَا
فَیَسۡقِیۡ
رَبَّہٗ
خَمۡرًا
وَاَمَّا
الۡاٰخَرُ
فَیُصۡلَبُ
فَتَاۡکُلُ
الطَّیۡرُ
مِنۡ رَّاۡسِہٖ
قُضِیَ
الۡاَمۡرُ
الَّذِیۡ
فِیۡہِ
تَسۡتَفۡتِیٰنِ
اے میرے دو ساتھیوں
قیدخانے کے
رہا
تم دونوں میں سے ایک
پس وہ پلائے گا
اپنے آقا کو
شراب
اور رہا
دوسرا
پس وہ سولی چڑھایا جائے گا
تو کھائیں گے
پرندے
اس کے سر سے
فیصلہ کردیا گیا
معاملے کا
وہ جو
جس (کے بارے)میں
تم دونوں پوچھتے ہو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ
اَمَّاۤ
اَحَدُ کُمَا
فَیَسۡقِیۡ
رَبَّہٗ
خَمۡرًا
وَاَمَّا
الۡاٰخَرُ
فَیُصۡلَبُ
فَتَاۡکُلُ
الطَّیۡرُ
مِنۡ رَّاۡسِہٖ
قُضِیَ
الۡاَمۡرُ
الَّذِیۡ
فِیۡہِ
تَسۡتَفۡتِیٰنِ
اے میرے قید خانے کے دو نوں ساتھیو
جہاں تک
پہلا ہے تم دونوں میں سے
تو وہ پلائے گا
اپنے آقا کو
شراب
اور جہاں تک
دوسرا ہے
سو وہ سولی دیا جائے گا
پس کھائیں گے
پرندے
اس کے سر سے
فیصلہ ہو گیا
کام کا
جو
جس کے بارے میں
تم مجھ سے پوچھ رہے تھے
حافظ نذر احمد حفظه الله
يٰصَاحِبَيِ
السِّجْنِ
اَمَّآ
اَحَدُكُمَا
فَيَسْقِيْ
رَبَّهٗ
خَمْرًا
وَاَمَّا
الْاٰخَرُ
فَيُصْلَبُ
فَتَاْكُلُ
الطَّيْرُ
مِنْ رَّاْسِهٖ
قُضِيَ
الْاَمْرُ
الَّذِيْ
فِيْهِ
تَسْتَفْتِيٰنِ
اے میرے ساتھیو !
قید خانہ
جو
تم میں سے ایک
سو وہ پلائے گا
اپنا مالک
شراب
اور جو
دوسرا
تو سولی دیا جائے گا
پس کھائیں گے
پرندے
اس کے سر سے
فیصلہ ہوچکا
کام۔ بات
وہ جو
اس میں
تم پوچھتے تھے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]