اور اس نے اس سے کہا جس کے متعلق اس نے سمجھا تھا کہ وہ دونوں میں سے رہا ہونے والا ہے کہ اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کرنا۔ تو شیطان نے اسے اس کے مالک سے ذکر کرنا بھلا دیا تو وہ کئی سال قید خانے میں رہا۔[42]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَقَالَ
لِلَّذِیۡ
ظَنَّ
اَنَّہٗ
نَاجٍ
مِّنۡہُمَا
اذۡکُرۡنِیۡ
عِنۡدَ
رَبِّکَ
فَاَنۡسٰہُ
الشَّیۡطٰنُ
ذِکۡرَ
رَبِّہٖ
فَلَبِثَ
فِی السِّجۡنِ
بِضۡعَ
سِنِیۡنَ
اور کہا
اسے جس کا
اسےیقین تھا
کہ بےشک وہ
نجات پانے والا ہے
ان دونوں میں سے
ذکر کرنا میرا
پاس
اپنے آقا کے
تو بھلا دیا اسے
شیطان نے
ذکر کرنا
اپنے آقا سے
تو وہ ٹھہرا رہا
قید خانے میں
چند
سال
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَقَالَ
لِلَّذِیۡ
ظَنَّ
اَنَّہٗ
نَاجٍ
مِّنۡہُمَا
اذۡکُرۡنِیۡ
عِنۡدَ رَبِّکَ
فَاَنۡسٰہُ
الشَّیۡطٰنُ
ذِکۡرَ
رَبِّہٖ
فَلَبِثَ
فِی السِّجۡنِ
بِضۡعَ سِنِیۡنَ
اور کہا
اس شخص کے لیے
خیال تھا
کہ وہ
رہا ہونے والا
اُن دونوں میں سے
تم ذکر کرنا میرا
اپنے آقا کے پاس
تو بھلا دیا اسے
شیطان نے
ذکر کرنا
اپنے آقا سے
تو وہ رہا
قید خانے میں
کئی سال
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَقَالَ
لِلَّذِيْ
ظَنَّ
اَنَّهٗ
نَاجٍ
مِّنْهُمَا
اذْكُرْنِيْ
عِنْدَ
رَبِّكَ
فَاَنْسٰىهُ
الشَّيْطٰنُ
ذِكْرَ رَبِّهٖ
فَلَبِثَ
فِي السِّجْنِ
بِضْعَ سِنِيْنَ
اور کہا
اس سے جس
اس نے گمان کیا
کہ بیشک وہ
بچے گا وہ
ان دونوں سے
میرا ذکر کرنا
پاس
اپنا مالک
پس اس کو بھلا دیا
شیطان
اپنے مالک سے ذکر کرنا
تو رہا
قید میں
چند برس
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]