اس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو کئی نالے اپنی اپنی وسعت کے مطابق بہ نکلے، پھر اس ریلے نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا۔ اور جن چیزوں کو کوئی زیور یا سامان بنانے کی غرض سے آگ پر تپاتے ہیں ان سے بھی اسی طرح کا جھاگ (ابھرتا) ہے۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے، پھر جو جھاگ ہے سو بے کار چلا جاتا ہے اور رہی وہ چیز جو لوگوں کو نفع دیتی ہے، سو زمین میں رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔[17]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اَنۡزَلَ
مِنَ السَّمَآءِ
مَآءً
فَسَالَتۡ
اَوۡدِیَۃٌۢ
بِقَدَرِہَا
فَاحۡتَمَلَ
السَّیۡلُ
زَبَدًا
رَّابِیًا
وَمِمَّا
یُوۡقِدُوۡنَ
عَلَیۡہِ
فِی النَّارِ
ابۡتِغَآءَ
حِلۡیَۃٍ
اَوۡ
مَتَاعٍ
زَبَدٌ
مِّثۡلُہٗ
کَذٰلِکَ
یَضۡرِبُ
اللّٰہُ
الۡحَقَّ
وَالۡبَاطِلَ
فَاَمَّا
الزَّبَدُ
فَیَذۡہَبُ
جُفَآءً
وَاَمَّا
مَا
یَنۡفَعُ
النَّاسَ
فَیَمۡکُثُ
فِی الۡاَرۡضِ
کَذٰلِکَ
یَضۡرِبُ
اللّٰہُ
الۡاَمۡثَالَ
اس نے اتارا ہے
آسمان سے
پانی
تو بہہ نکلیں
وادیاں
انپے اپنے انداز ے سے
تو اٹھا لیا
سیلاب نے
جھاگ
چڑھا ہوا
اور اس میں سے جو
وہ جلاتے ہیں
اس پر
آگ میں
حاصل کرنے کو
زیور
یا
برتن
جھاگ ہے
اس جیسا
اسی طرح
بیان کرتا ہے
اللہ
حق
اور باطل کو
تو رہا
جھاگ
تو وہ چلا جاتا ہے
ناکارہ ہوکر
اور لیکن
جو
نفع دیتا ہے
لوگوں کو
تو وہ ٹھہر جاتا ہے
زمین میں
اسی طرح
بیان کرتا ہے
اللہ
مثالیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اَنۡزَلَ
مِنَ السَّمَآءِ
مَآءً
فَسَالَتۡ
اَوۡدِیَۃٌۢ
بِقَدَرِہَا
فَاحۡتَمَلَ
السَّیۡلُ
زَبَدًا
رَّابِیًا
وَمِمَّا
یُوۡقِدُوۡنَ
عَلَیۡہِ
فِی النَّارِ
ابۡتِغَآءَ
حِلۡیَۃٍ
اَوۡ
مَتَاعٍ
زَبَدٌ
مِّثۡلُہٗ
کَذٰلِکَ
یَضۡرِبُ
اللّٰہُ
الۡحَقَّ
وَالۡبَاطِلَ
فَاَمَّا
الزَّبَدُ
فَیَذۡہَبُ
جُفَآءً
وَاَمَّا
مَا
یَنۡفَعُ
النَّاسَ
فَیَمۡکُثُ
فِی الۡاَرۡضِ
کَذٰلِکَ
یَضۡرِبُ
اللّٰہُ
الۡاَمۡثَالَ
اس نے اتارا
آسمان سے
پانی
چنانچہ بہہ نکلے
کئی نالے
اپنی بساط کے مطابق
پھر اُٹھا لیا
سیلاب نے
جھاگ
ابھرا ہوا
اسی طرح کا جو
وہ تپاتے ہیں
اس پر
آگ میں
بنانے کے لیے
زیور
یا
برتن
جھاگ ہے
اسی طرح کا
اسی طرح
مثال بیان کر تا ہے
اللہ تعالیٰ
حق
اور باطل کی
چنانچہ جو
جھاگ ہے
چلا جاتا ہے
بے کار
اور لیکن
جو
فائدہ دیتی ہے
انسانوں کو
وہ ٹھہر جاتی ہے
زمین میں
اسی طرح
بیان کرتا ہے
اللہ تعالیٰ
مثالیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
اَنْزَلَ
مِنَ السَّمَآءِ
مَآءً
فَسَالَتْ
اَوْدِيَةٌ
بِقَدَرِهَا
فَاحْتَمَلَ
السَّيْلُ
زَبَدًا
رَّابِيًا
وَمِمَّا
يُوْقِدُوْنَ
عَلَيْهِ
فِي النَّارِ
ابْتِغَآءَ
حِلْيَةٍ
اَوْ
مَتَاعٍ
زَبَدٌ
مِّثْلُهٗ
كَذٰلِكَ
يَضْرِبُ
اللّٰهُ
الْحَقَّ
وَالْبَاطِلَ
فَاَمَّا
الزَّبَدُ
فَيَذْهَبُ
جُفَآءً
وَاَمَّا
مَا يَنْفَعُ
النَّاسَ
فَيَمْكُثُ
فِي الْاَرْضِ
كَذٰلِكَ
يَضْرِبُ
اللّٰهُ
الْاَمْثَالَ
اس نے اتارا
آسمانوں سے
پانی
سو بہہ نکلے
ندی نالے
اپنے اپنے اندازہ سے
پھر اٹھا لایا
نالہ
جھاگ
پھولا ہوا
اور اس سے جو
تپائے ہیں
اس پر
آگ میں
حاصل کرنے (بنانے) کو
زیور
یا
اسباب
جھاگ
اسی جیسا
اسی طرح
بیان کرتا ہے
اللہ
حق
اور باطل
سو
جھاگ
دور ہوجاتا ہے
سوکھ کر
اور لیکن
جو نفع پہنچاتا ہے
لوگ
تو ٹھہرا رہتا ہے وہ
زمین میں
اسی طرح
بیان کرتا ہے
اللہ
مثالیں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔