اور اگر اللہ لوگوںکو ان کے ظلم کی وجہ سے پکڑے تو اس کے اوپر کوئی چلنے والا نہ چھوڑے اور لیکن وہ انھیں ایک مقرر وقت تک ڈھیل دیتا ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں۔[61]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡ
یُؤَاخِذُ
اللّٰہُ
النَّاسَ
بِظُلۡمِہِمۡ
مَّا
تَرَکَ
عَلَیۡہَا
مِنۡ دَآبَّۃٍ
وَّلٰکِنۡ
یُّؤَخِّرُہُمۡ
اِلٰۤی اَجَلٍ
مُّسَمًّی
فَاِذَا
جَآءَ
اَجَلُہُمۡ
لَایَسۡتَاۡخِرُوۡنَ
سَاعَۃً
وَّلَا
یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ
اور اگر
مواخذہ کرے
اللہ
لوگوں کا
بوجہ ان کے ظلم کے
نہ
وہ چھوڑے
اس (زمین)پر
کوئی جاندار
اور لیکن
وہ مہلت دے رہا ہے انہیں
ایک مدت تک
مقرر
پھر جب
آجائے گا
ان کا وقت مقرر
نہ وہ پیچھے رہیں گے
ایک گھڑی
اور نہ
اور آگے بڑھ سکیں گے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡ
یُؤَاخِذُ
اللّٰہُ
النَّاسَ
بِظُلۡمِہِمۡ
مَّا تَرَکَ
عَلَیۡہَا
مِنۡ دَآبَّۃٍ
وَّلٰکِنۡ
یُّؤَخِّرُہُمۡ
اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی
فَاِذَا
جَآءَ
اَجَلُہُمۡ
لَایَسۡتَاۡخِرُوۡنَ
سَاعَۃً
وَّلَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ
اور اگر
مواخذہ کرتا
اللہ تعالیٰ
لوگوں کا
ان کے ظلم کی بنیاد پر
نہ چھوڑتا
اس پر
کوئی چلنے والا
اور لیکن
وہ مہلت دیتا ہے انہیں
ایک مقررہ وقت تک
چنا نچہ جب
آجاتی ہے
ان کی مدت
نہیں وہ پیچھے رہتے ہیں
ایک گھڑی
اور نہ وہ آگے بڑھتے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَلَوْ
يُؤَاخِذُ
اللّٰهُ
النَّاسَ
بِظُلْمِهِمْ
مَّا تَرَكَ
عَلَيْهَا
مِنْ
دَآبَّةٍ
وَّلٰكِنْ
يُّؤَخِّرُهُمْ
اِلٰٓى
اَجَلٍ مُّسَمًّى
فَاِذَا
جَآءَ
اَجَلُهُمْ
لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ
سَاعَةً
وَّ
لَا يَسْتَقْدِمُوْنَ
اور اگر
گرفت کرے
اللہ
لوگ
ان کے ظلم کے سبب
نہ چھوڑے وہ
اس (زمین) پر
کوئی
چلنے والا
اور لیکن
وہ ڈھیل دیتا ہے انہیں
تک
ایک مدت مقررہ
پھر جب
آگیا
ان کا وقت
نہ پیچھے ہٹیں گے
ایک گھڑی
اور
نہ آگے بڑھیں گے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّمَ:قَدَّمَ اور اَسْلَفَ میں وہی فرق ہے جو ارتفاع اور عمق میں ہے اگر نیچے کے کنارے پر ہوں تو اسی راسی فاصلہ کو بلندی کو کہتے ہیں اوپر کے کنارے پر کھڑے ہوں تو وہی فاصلہ گہرائ یہ عمق کہلاتا ہے وہی بات یا کام جو قدّم کا مفہوم سے موقع کے لحاظ سے وہی اسلف بن جاتا ہے ۔