اور اپنی قسموں کو اپنے درمیان فریب کا ذریعہ نہ بناؤ، (ایسا نہ ہو) کہ کوئی قدم اپنے جمنے کے بعد پھسل جائے اور تم برائی کا مزہ چکھو، اس کے بدلے جو تم نے اللہ کی راہ سے روکا اور تمھارے لیے بہت بڑا عذاب ہو۔[94]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَا
تَتَّخِذُوۡۤا
اَیۡمَانَکُمۡ
دَخَلًۢا
بَیۡنَکُمۡ
فَتَزِلَّ
قَدَمٌۢ
بَعۡدَ
ثُبُوۡتِہَا
وَتَذُوۡقُوا
السُّوۡٓءَ
بِمَا
صَدَدۡتُّمۡ
عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
وَلَکُمۡ
عَذَابٌ
عَظِیۡمٌ
اور نہ
تم بناؤ
اپنی قسموں کو
دھوکہ دینے کا ذریعہ
آپس میں
ورنہ پھسل جائے گا
قدم
بعد
اس کے جم جانے کے
اور تم چکھو گے
برائی / سزا
بوجہ اس کے جو
روکا تم نے
اللہ کے راستے سے
اور تمہارے لیے
عذاب ہے
بہت بڑا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَا
تَتَّخِذُوۡۤا
اَیۡمَانَکُمۡ
دَخَلًۢا
بَیۡنَکُمۡ
فَتَزِلَّ
قَدَمٌۢ
بَعۡدَ
ثُبُوۡتِہَا
وَتَذُوۡقُوا
السُّوۡٓءَ
بِمَا
صَدَدۡتُّمۡ
عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
وَلَکُمۡ
عَذَابٌ
عَظِیۡمٌ
اور نہ
تم بناؤ
اپنی قسموں کو
فریب کا ذریعہ
آپس میں
کہ پھسل گیا
کوئی قدم
بعد
اپنے جمنے کے
اور تم مزہ چکھو
برائی کا
اس کے بدلے جو
روکا تم نے
اللہ کی راہ سے
اور تمہارے لیے
عذاب ہے
بہت بڑا
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَ
لَا تَتَّخِذُوْٓا
اَيْمَانَكُمْ
دَخَلًۢا
بَيْنَكُمْ
فَتَزِلَّ
قَدَمٌ
بَعْدَ ثُبُوْتِهَا
وَتَذُوْقُوا
السُّوْٓءَ
بِمَا
صَدَدْتُّمْ
عَنْ
سَبِيْلِ اللّٰهِ
وَلَكُمْ
عَذَابٌ
عَظِيْمٌ
اور
تم نہ بناؤ
اپنی قسمیں
دخل کا بہانہ
اپنے درمیان
کہ پھسلے
کوئی قدم
اپنے جم جانے کے بعد
اور تم چکھو
برائی (وبال)
اس لیے کہ
روکا تم نے
سے
اللہ کا راستہ
اور تمہارے لیے
عذاب
بڑا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّمَ:قَدَّمَ اور اَسْلَفَ میں وہی فرق ہے جو ارتفاع اور عمق میں ہے اگر نیچے کے کنارے پر ہوں تو اسی راسی فاصلہ کو بلندی کو کہتے ہیں اوپر کے کنارے پر کھڑے ہوں تو وہی فاصلہ گہرائ یہ عمق کہلاتا ہے وہی بات یا کام جو قدّم کا مفہوم سے موقع کے لحاظ سے وہی اسلف بن جاتا ہے ۔