جس نے ہدایت پائی تو وہ اپنی ہی جان کے لیے ہدایت پاتا ہے اور جو گمراہ ہوا تو اسی پر گمراہ ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری (جان) کا بوجھ نہیں اٹھاتی اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔[15]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
مَنِ
اہۡتَدٰی
فَاِنَّمَا
یَہۡتَدِیۡ
لِنَفۡسِہٖ
وَمَنۡ
ضَلَّ
فَاِنَّمَا
یَضِلُّ
عَلَیۡہَا
وَلَا
تَزِرُ
وَازِرَۃٌ
وِّزۡرَ
اُخۡرٰی
وَمَا
کُنَّا
مُعَذِّبِیۡنَ
حَتّٰی
نَبۡعَثَ
رَسُوۡلًا
جو
ہدایت پائے
تو بےشک
وہ ہدایت پاتا ہے
اپنے ہی نفس کے لئے
اور جو
گمراہ ہوا/ بھٹکا
تو بےشک
وہ بھٹکتا ہے
اپنے ہی خلاف
اور نہ
بوجھ اٹھائے گی
کوئی بوجھ اٹھانے والی
بوجھ
دوسری کا
اور نہیں
ہیں ہم
عذاب دینے والے
یہاں تک کہ
ہم بھیجیں
کوئی رسول
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
مَنِ اہۡتَدٰی
فَاِنَّمَا
یَہۡتَدِیۡ
لِنَفۡسِہٖ
وَمَنۡ
ضَلَّ
فَاِنَّمَا
یَضِلُّ
عَلَیۡہَا
وَلَا تَزِرُ
وَازِرَۃٌ
وِّزۡرَ
اُخۡرٰی
وَمَا
کُنَّا
مُعَذِّبِیۡنَ
حَتّٰی
نَبۡعَثَ
رَسُوۡلًا
جس نے ہدایت پائی
تو یقیناً
وہ ہدایت پاتا ہے
اپنی ذات کے لیے
اورجو
گمراہ ہوا ہے
تو یقیناً
وہ گمراہ ہوتا ہے
اوپر اپنے
اور نہیں بوجھ اٹھاتی
کوئی بوجھ اُٹھانے والی
بوجھ
کسی دوسری کا
اور نہیں
تھے ہم
عذاب دینے والے
یہاں تک کہ
ہم بھیجیں
کو ئی رسول
حافظ نذر احمد حفظه الله
مَنِ
اهْتَدٰى
فَاِنَّمَا
يَهْتَدِيْ
لِنَفْسِهٖ
وَمَنْ
ضَلَّ
فَاِنَّمَا
يَضِلُّ
عَلَيْهَا
وَلَا تَزِرُ
وَازِرَةٌ
وِّزْرَ اُخْرٰى
وَ
مَا كُنَّا
مُعَذِّبِيْنَ
حَتّٰى
نَبْعَثَ
رَسُوْلًا
جس
ہدایت پائی
تو صرف
اس نے ہدایت پائی
اپنے لیے
اور جو
گمراہ ہوا
تو صرف
گمراہ ہوا
اپنے اوپر (اپنے بڑے کو)
اور بوجھ نہیں اٹھاتا
کوئی اٹھانے والا
دوسرے کا بوجھ
اور
ہم نہیں
عذاب دینے والے
جب تک
ہم (نہ) بھیجیں
کوئی رسول
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]