اور ہم نے ان کے دلوں پر کئی پردے بنا دیے ہیں، (اس سے) کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ۔ اور جب تو قرآن میں اپنے رب کا، اکیلے اسی کا ذکر کرتا ہے تو وہ بدکتے ہوئے اپنی پیٹھوں پر پھر جاتے ہیں۔[46]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَّجَعَلۡنَا
عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ
اَکِنَّۃً
اَنۡ
یَّفۡقَہُوۡہُ
وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ
وَقۡرًا
وَاِذَا
ذَکَرۡتَ
رَبَّکَ
فِی الۡقُرۡاٰنِ
وَحۡدَہٗ
وَلَّوۡا
عَلٰۤی اَدۡبَارِہِمۡ
نُفُوۡرًا
اور ڈال دیتے ہیں ہم
ان کے دلوں پر
پردے
کہ
نہ وہ سمجھ سکیں اسے
اور ان کے کانوں میں
بوجھ
اور جب
ذکر کرتے ہیں آپ
اپنے رب کا
قرآن میں
اکیلے اسی کا
وہ پھر جاتے ہیں
اپنی پشتوں پر
نفرت کرتے ہوئے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَّجَعَلۡنَا
عَلٰی
قُلُوۡبِہِمۡ
اَکِنَّۃً
اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ
وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ
وَقۡرًا
وَاِذَا
ذَکَرۡتَ
رَبَّکَ
فِی الۡقُرۡاٰنِ
وَحۡدَہٗ
وَلَّوۡا
عَلٰۤی
اَدۡبَارِہِمۡ
نُفُوۡرًا
اور بنا دیے ہیں ہم نے
اوپر ان کے دلوں کے
کئی پردے
اس سے کہ
وہ سمجھیں اسکو
اور اُن کے کا نوں میں
بوجھ ہے
اور جب
آپ ذکر کرتے ہیں
اپنے رب کا
قرآن میں
اس ایک کا
وہ پھر جاتےہیں
اُوپر
اپنی پیٹھوں کے
بدکتے ہوئے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَّجَعَلْنَا
عَلٰي
قُلُوْبِهِمْ
اَكِنَّةً
اَنْ
يَّفْقَهُوْهُ
وَ
فِيْٓ
اٰذَانِهِمْ
وَقْرًا
وَاِذَا
ذَكَرْتَ
رَبَّكَ
فِي الْقُرْاٰنِ
وَحْدَهٗ
وَلَّوْا
عَلٰٓي
اَدْبَارِهِمْ
نُفُوْرًا
اور ہم نے ڈال دئیے
پر
ان کے دل
پردے
کہ
وہ نہ سمجھیں اسے
اور
میں
ان کے کان
گرانی
اور جب
تم ذکر کرتے ہو
اپنا رب
قرآن میں
یکتا
وہ بھاگتے ہیں
پر
اپنی پیٹھ ٠ جمع)
نفرت کرتے ہوئے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]