اور جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جنھیں گمراہ کر دے تو توُ ان کے لیے اس کے سوا ہرگز کوئی مدد کرنے والے نہیں پائے گا اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔[97]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَمَنۡ
یَّہۡدِ
اللّٰہُ
فَہُوَ
الۡمُہۡتَدِ
وَمَنۡ
یُّضۡلِلۡ
فَلَنۡ
تَجِدَ
لَہُمۡ
اَوۡلِیَآءَ
مِنۡ دُوۡنِہٖ
وَنَحۡشُرُہُمۡ
یَوۡمَ
الۡقِیٰمَۃِ
عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ
عُمۡیًا
وَّبُکۡمًا
وَّصُمًّا
مَاۡوٰىہُمۡ
جَہَنَّمُ
کُلَّمَا
خَبَتۡ
زِدۡنٰہُمۡ
سَعِیۡرًا
اور جسے
ہدایت دے
اللہ
تو وہی ہے
ہدایت یافتہ
اور جسے
وہ بھٹکا دے
تو ہر گز نہیں
آپ پائیں گے
ان کے لیے
کوئی مددگار
اس کے سوا
اور ہم اکٹھا کریں گے انہیں
دن
قیامت کے
ان کے چہروں کے بل
اندھا
اور گونگا
اور بہرا (بناکر)
ٹھکانہ ان کا
جہنم(ہو گا)
جب کبھی
دھیمی ہونے لگے گی
زیادہ کر دیں کے ہم ان پر
دہکتی آگ
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَمَنۡ
یَّہۡدِ
اللّٰہُ
فَہُوَ
الۡمُہۡتَدِ
وَمَنۡ
یُّضۡلِلۡ
فَلَنۡ
تَجِدَ
لَہُمۡ
اَوۡلِیَآءَ
مِنۡ دُوۡنِہٖ
وَنَحۡشُرُہُمۡ
یَوۡمَ
الۡقِیٰمَۃِ
عَلٰی
وُجُوۡہِہِمۡ
عُمۡیًا
وَّبُکۡمًا
وَّصُمًّا
مَاۡوٰىہُمۡ
جَہَنَّمُ
کُلَّمَا
خَبَتۡ
زِدۡنٰہُمۡ
سَعِیۡرًا
اور جسے
ہدایت دے
اللہ تعالیٰ
تو وہی
ہدایت پانے والا ہے
اور جسے
وہ گمراہ کرتا ہے
تو ہرگز نہیں
آپ پائیں گے
اُن کا
کوئی سرپرست
اس کے سوا
اور ہم اٹھائیں گے انہیں
دن
قیا مت کے
اُوپر
اُن کے چہروں کے
اندھا
اور گونگا
اور بہرا
ٹھکانہ اُن کا
جہنم ہے
جب کبھی
بجھنے لگے گی
زیادہ کردیں گے ہم انکا
بھڑکنا
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَمَنْ
يَّهْدِ
اللّٰهُ
فَهُوَ
الْمُهْتَدِ
وَمَنْ
يُّضْلِلْ
فَلَنْ تَجِدَ
لَهُمْ
اَوْلِيَآءَ
مِنْ دُوْنِهٖ
وَنَحْشُرُهُمْ
يَوْمَ الْقِيٰمَةِ
عَلٰي
وُجُوْهِهِمْ
عُمْيًا
وَّبُكْمًا
وَّصُمًّا
مَاْوٰىهُمْ
جَهَنَّمُ
كُلَّمَا
خَبَتْ
زِدْنٰهُمْ
سَعِيْرًا
اور جسے
ہدایت دے
اللہ
پس وہی
ہدایت پانے والا
اور جسے
گمراہ کرے
پس تو ہرگز نہ پائے گا
ان کے لیے
مددگار
اس کے سوا
اور ہم اٹھائیں گے نہیں
قیامت کے دن
پر
ان کے چہرے
اندھے
اور گونگے
اور بہرے
ان کا ٹھکانا
جہنم
جب کبھی
بجھنے لگے گی
ہم ان کے لیے زیادہ کردیں گے
بھڑکانا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]