اور جو لوگ تم میں سے فوت کیے جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں وہ اپنی بیویوں کے لیے ایک سال تک نکالے بغیر خرچہ دینے کی وصیت کریں، پھر اگر وہ نکل جائیں تو تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو وہ معروف طریقے میں سے اپنی جانوں کے بارے میں کریں اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔[240]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَالَّذِیۡنَ
یُتَوَفَّوۡنَ
مِنۡکُمۡ
وَیَذَرُوۡنَ
اَزۡوَاجًا
وَّصِیَّۃً
لِّاَزۡوَاجِہِمۡ
مَّتَاعًا
اِلَی الۡحَوۡلِ
غَیۡرَ
اِخۡرَاجٍ
فَاِنۡ
خَرَجۡنَ
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَیۡکُمۡ
فِیۡ مَا
فَعَلۡنَ
فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ
مِنۡ مَّعۡرُوۡفٍ
وَاللّٰہُ
عَزِیۡزٌ
حَکِیۡمٌ
اور وہ لوگ جو
فوت کرلیے جاتے ہیں
تم میں سے
اور چھوڑ جاتے ہیں
بیویاں
وصیت (کریں)
اپنی بیویوں کے لیے
فائدہ پہنچانے کی
ایک سال تک
بغیر
نکالنے کے
پھر اگر
وہ نکل جائیں
تو نہیں
کوئی گناہ
تم پر
اس معاملے میں جو
وہ کریں
اپنے نفسوں کے بارے میں
بھلے طریقے سے
اور اللہ
بہت زبردست ہے
خوب حکمت والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَالَّذِیۡنَ
یُتَوَفَّوۡنَ
مِنۡکُمۡ
وَیَذَرُوۡنَ
اَزۡوَاجًا
وَّصِیَّۃً
لِّاَزۡوَاجِہِمۡ
مَّتَاعًا
اِلَی الۡحَوۡلِ
غَیۡرَ
اِخۡرَاجٍ
فَاِنۡ
خَرَجۡنَ
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَیۡکُمۡ
فِیۡ مَا
فَعَلۡنَ
فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ
مِنۡ مَّعۡرُوۡفٍ
وَاللّٰہُ
عَزِیۡزٌ
حَکِیۡمٌ
اور جو لوگ
فوت ہوجائیں
تم میں سے
اوروہ چھوڑ جائیں
بیویاں
۔ (ان پر لازم ہے) وصیت کرنا
اپنی بیویوں کے لیے
سا ما ن دینے کی
ایک سال تک
نہیں
نکالا جا نا
پھر اگر
وہ نکل جائیں
تو نہیں
کوئی گناہ
تم پر
اس میں جو
وہ کریں
اپنی جا نو ں کے بارے میں
معروف طریقے سے
اور اللہ تعا لیٰ
سب پر غالب
کما ل حکمت والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَالَّذِيْنَ
يُتَوَفَّوْنَ
مِنْكُمْ
وَيَذَرُوْنَ
اَزْوَاجًا
وَّصِيَّةً
لِّاَزْوَاجِهِمْ
مَّتَاعًا
اِلَى
الْحَوْلِ
غَيْرَ
اِخْرَاجٍ
فَاِنْ
خَرَجْنَ
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَيْكُمْ
فِيْ
مَا فَعَلْنَ
فِيْٓ
اَنْفُسِهِنَّ
مِنْ
مَّعْرُوْفٍ
وَاللّٰهُ
عَزِيْزٌ
حَكِيْمٌ
اور جو لوگ
وفات پاجائیں
تم میں سے
اور چھوڑ جائیں
بیویاں
وصیت
اپنی بیویوں کے لیے
نان نفقہ
تک
ایک سال
بغیر
نکالے
پھر اگر
وہ نکل جائیں
تو نہیں
گناہ
تم پر
میں
جو وہ کریں
میں
اپنے تئیں
سے
دستور
اور اللہ
غالب
حکمت والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]