بجلی قریب ہے کہ ان کی نگاہیں اچک کر لے جائے، جب کبھی وہ ان کے لیے روشنی کرتی ہے اس میں چل پڑتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا کر دیتی ہے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور ان کی سماعت اور ان کی نگاہیں لے جاتا، بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔[20]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
یَکَادُ
الۡبَرۡقُ
یَخۡطَفُ
اَبۡصَارَہُمۡ
کُلَّمَاۤ
اَضَآءَ
لَہُمۡ
مَّشَوۡا
فِیۡہِ
وَاِذَاۤ
اَظۡلَمَ
عَلَیۡہِمۡ
قَامُوۡا
وَلَوۡ
شَآءَ
اللّٰہُ
لَذَہَبَ
بِسَمۡعِہِمۡ
وَاَبۡصَارِہِمۡ
اِنَّ
اللّٰہَ
عَلٰی
کُلِّ
شَیۡءٍ
قَدِیۡرٌ
قریب ہے
بجلی کی چمک
کہ وہ اچک لے
نگاہیں ان کی
جب کبھی
وہ روشنی کرتی ہے
ان کے لئے
وہ چل پڑتے ہیں
اس میں
اور جب
وہ اندھیرا کردیتی ہے
ان پر
وہ کھڑے ہوجاتے ہیں
اور اگر
چاہے
اللہ
البتہ وہ لے جائے
کان ان کے
اور آنکھیں ان کی
بےشک
اللہ
اوپر
ہر
چیز کے
بہت قدرت رکھنے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
یَکَادُ
الۡبَرۡقُ
یَخۡطَفُ
اَبۡصَارَہُمۡ
کُلَّمَاۤ
اَضَآءَ
لَہُمۡ
مَّشَوۡا
فِیۡہِ
وَاِذَاۤ
اَظۡلَمَ
عَلَیۡہِمۡ
قَامُوۡا
وَلَوۡ
شَآءَ
اللّٰہُ
لَذَہَبَ
بِسَمۡعِہِمۡ
وَاَبۡصَارِہِمۡ
اِنَّ
اللّٰہَ
عَلٰی
کُلِّ
شَیۡءٍ
قَدِیۡرٌ
قریب ہے (کہ)
بجلی
اُچک لے
ان کی نگاہیں
جب کبھی
روشنی کرتی ہے
ان کے لئے
وہ چل پڑے ہیں
اس میں
اور جب
اندھیرا کرتی ہے
ان کے لئے
وہ کھڑےہو جاتے ہیں
اور اگر
چاہتا
اللہ تعالیٰ
ضرور لے جاتا
ان کی سماعت کو
اور ان کی بصارت کو
یقیناً
اللہ تعالیٰ
اوپر
ہر
چیز کے
پوری قدرت رکھنے والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
يَكَادُ
الْبَرْقُ
يَخْطَفُ
اَبْصَارَھُمْ
كُلَّمَآ
اَضَآءَ
لَھُمْ
مَّشَوْا
فِيْهِ
وَاِذَآ
اَظْلَمَ
عَلَيْهِمْ
قَامُوْا
وَلَوْ
شَآءَ
اللّٰهُ
لَذَھَبَ
بِسَمْعِهِمْ
وَاَبْصَارِهِمْ
اِنَّ
اللّٰهَ
عَلٰي
كُلِّ
شَىْءٍ
قَدِيْرٌ
قریب ہے
بجلی
اچک لے
انکی نگاہیں
جب بھی
ّّوہ چمکی
ان پر
چل پڑے
اس میں
اور جب
اندھیرا ہوا
ان پر
وہ کھڑے ہوئے
اور اگر
چاہتا
اللہ
چھین لیتا
ان کی شنوا ئی
اور ان کی آنکھیں
بیشک
اللہ
پر
ہر
چیز
قادر
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔