اور اللہ نے ہر چلنے والا (جاندار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو چار پر چلتا ہے، اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، یقینا اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔[45]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاللّٰہُ
خَلَقَ
کُلَّ
دَآبَّۃٍ
مِّنۡ مَّآءٍ
فَمِنۡہُمۡ
مَّنۡ
یَّمۡشِیۡ
عَلٰی بَطۡنِہٖ
وَمِنۡہُمۡ
مَّنۡ
یَّمۡشِیۡ
عَلٰی رِجۡلَیۡنِ
وَمِنۡہُمۡ
مَّنۡ
یَّمۡشِیۡ
عَلٰۤی اَرۡبَعٍ
یَخۡلُقُ
اللّٰہُ
مَا
یَشَآءُ
اِنَّ
اللّٰہَ
عَلٰی
کُلِّ
شَیۡءٍ
قَدِیۡرٌ
اور اللہ نے
پیدا کیا
ہر
جانور کو
پانی سے
تو ان میں کوئی ہے
جو
چلتا ہے
اپنے پیٹ پر
اور ان میں سے کوئی ہے
جو
چلتا ہے
دو پاؤں پر
اور ان میں سے کوئی ہے
جو
چلتا ہے
چار(پاؤں)پر
پیدا کرتا ہے
اللہ
جو
وہ چاہتا ہے
بےشک
اللہ
اوپر
ہر
چیز کے
خوب قدرت رکھنے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاللّٰہُ
خَلَقَ
کُلَّ
دَآبَّۃٍ
مِّنۡ مَّآءٍ
فَمِنۡہُمۡ
مَّنۡ
یَّمۡشِیۡ
عَلٰی بَطۡنِہٖ
وَمِنۡہُمۡ
مَّنۡ
یَّمۡشِیۡ
عَلٰی رِجۡلَیۡنِ
وَمِنۡہُمۡ
مَّنۡ
یَّمۡشِیۡ
عَلٰۤی اَرۡبَعٍ
یَخۡلُقُ
اللّٰہُ
مَایَشَآءُ
اِنَّ
اللّٰہَ
عَلٰی
کُلِّ
شَیۡءٍ
قَدِیۡرٌ
اور اللہ تعالیٰ
پیدا کیا اس نے
ہر
جانور کو
پانی سے
پھر اُن میں سے
جو
وہ چلتا ہے
اپنے پیٹ کے بل
اور اُن میں سے
جو
وہ چلتا ہے
دو پاؤں پر
اور اُن میں سے
جو
وہ چلتا ہے
چار پاؤں پر
پیدا کرتا ہے
اللہ تعالیٰ
جو وہ چاہتا ہے
یقیناً
اللہ تعالیٰ
اوپر
ہر
چیز کے
پوری قدرت رکھنے والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاللّٰهُ
خَلَقَ
كُلَّ دَآبَّةٍ
مِّنْ مَّآءٍ
فَمِنْهُمْ
مَّنْ يَّمْشِيْ
عَلٰي بَطْنِهٖ
وَمِنْهُمْ
مَّنْ يَّمْشِيْ
عَلٰي رِجْلَيْنِ
وَمِنْهُمْ
مَّنْ يَّمْشِيْ
عَلٰٓي
اَرْبَعٍ
يَخْلُقُ اللّٰهُ
مَا يَشَآءُ
اِنَّ اللّٰهَ
عَلٰي
كُلِّ شَيْءٍ
قَدِيْرٌ
اور اللہ
پیدا کیا
ہر جاندار
پانی سے
پس ان میں سے
جو (کوئی) چلتا ہے
اپنے پیٹ پر
اور ان میں سے
کوئی چلتا ہے
دو پاؤں پر
اور ان میں سے
کوئی چلتا ہے
پر
چار
اللہ پیدا کرتا ہے
جو وہ چاہتا ہے
بیشک اللہ
پر
ہر شے
قدرت رکھنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔