پھر جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں، اس حال میں کہ اسی کے لیے عبادت کو خالص کرنے والے ہوتے ہیں، پھر جب وہ انھیں خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو اچانک وہ شریک بنا رہے ہوتے ہیں۔[65]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَاِذَا
رَکِبُوۡا
فِی الۡفُلۡکِ
دَعَوُا
اللّٰہَ
مُخۡلِصِیۡنَ
لَہُ
الدِّیۡنَ
فَلَمَّا
نَجّٰہُمۡ
اِلَی الۡبَرِّ
اِذَا
ہُمۡ
یُشۡرِکُوۡنَ
پھر جب
وہ سوار ہوتے ہیں
کشتی میں
وہ پکارتے ہیں
اللہ کو
خالص کرنے والے ہو کر
اس کے لیے
دین کو
تو جب
وہ نجات دیتا ہے انہیں
طرف خشکی کے
یکایک
وہ
وہ شرک کرنے لگتے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَاِذَا
رَکِبُوۡا
فِی الۡفُلۡکِ
دَعَوُا
اللّٰہَ
مُخۡلِصِیۡنَ
لَہُ
الدِّیۡنَ
فَلَمَّا
نَجّٰہُمۡ
اِلَی
الۡبَرِّ
اِذَا
ہُمۡ
یُشۡرِکُوۡنَ
پھرجب
وہ سوار ہوتے ہیں
کشتی میں
دعا مانگتے ہیں
اللہ تعالیٰ سے
خالص کرتے ہوئے
اسی کے لیے
دین کو
پھر جب
وہ (اللہ)نجات دیتا ہے انہیں
طرف
خشکی کی
اچانک ہی
وہ
شرک کرنے لگتے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَاِذَا
رَكِبُوْا
فِي الْفُلْكِ
دَعَوُا اللّٰهَ
مُخْلِصِيْنَ
لَهُ الدِّيْنَ ڬ
فَلَمَّا
نَجّٰىهُمْ
اِلَى الْبَرِّ
اِذَا هُمْ
يُشْرِكُوْنَ
پھر جب
وہ سوار ہوئے ہیں
کشتی میں
اللہ کو پکارتے ہیں
خالص رکھ کر
اس کے لیے اعتقاد
پھر جب
وہ انہیں نجات دیتا ہے
خشکی کی طرف
ناگہاں (فورا) وہ
شرک کرنے لگتے ہیں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]