اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق فراخ کر دیتا تو یقینا وہ زمین میں سرکش ہو جاتے اورلیکن وہ ایک اندازے کے ساتھ اتارتا ہے، جتنا چاہتا ہے، یقینا وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔[27]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡ
بَسَطَ
اللّٰہُ
الرِّزۡقَ
لِعِبَادِہٖ
لَبَغَوۡا
فِی الۡاَرۡضِ
وَلٰکِنۡ
یُّنَزِّلُ
بِقَدَرٍ
مَّا
یَشَآءُ
اِنَّہٗ
بِعِبَادِہٖ
خَبِیۡرٌۢ
بَصِیۡرٌ
اور اگر
کھول دے
اللہ
رزق کو
اپنے بندوں کے لیے
البتہ وہ سرکشی کریں
زمین میں
اور لیکن
وہ اتارتا ہے
ساتھ ایک اندازے کے
جو
وہ چاہتا ہے
بےشک وہ
اپنے بندوں سے
خوب باخبر ہے
خوب دیکھنے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡ
بَسَطَ
اللّٰہُ
الرِّزۡقَ
لِعِبَادِہٖ
لَبَغَوۡا
فِی الۡاَرۡضِ
وَلٰکِنۡ
یُّنَزِّلُ
بِقَدَرٍ
مَّا یَشَآءُ
اِنَّہٗ
بِعِبَادِہٖ
خَبِیۡرٌۢ
بَصِیۡرٌ
اوراگر
کشادہ کردیتا
اللہ تعالیٰ
رزق
اپنے بندوں کے لیے
تووہ سرکش ہوجاتے
زمین میں
اورلیکن
وہ نازل کرتاہے
ایک اندازے سے
جووہ چاہتاہے
یقیناًوہ
اپنے بندوں سے
خوب باخبر
خوب دیکھنے والاہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَلَوْ
بَسَطَ اللّٰهُ
الرِّزْقَ
لِعِبَادِهٖ
لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ
وَلٰكِنْ
يُّنَزِّلُ
بِقَدَرٍ
مَّا يَشَآءُ
ۭ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ
خَبِيْرٌۢ
بَصِيْرٌ
اور اگر
کھول دے اللہ
رزق کو
اپنے بندوں کے لیے
البتہ وہ بغاوت کردیں زمین میں
لیکن
اتارتا ہے
ساتھ اندازے کے
جو وہ چاہتا ہے
بیشک وہ اپنے بندوں کے ساتھ
خبر رکھنے والا ہے
دیکھنے والا ہے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔