تاکہ کتا ب والے یہ نہ جانیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے اور (جان لیں) کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ اسے اس کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔[29]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
لِّئَلَّا
یَعۡلَمَ
اَہۡلُ الۡکِتٰبِ
اَلَّا
یَقۡدِرُوۡنَ
عَلٰی شَیۡءٍ
مِّنۡ فَضۡلِ
اللّٰہِ
وَاَنَّ
الۡفَضۡلَ
بِیَدِ اللّٰہِ
یُؤۡتِیۡہِ
مَنۡ
یَّشَآءُ
وَاللّٰہُ
ذُو الۡفَضۡلِ
الۡعَظِیۡمِ
تا کہ
جان لیں
اہل کتاب
یہ کہ نہیں
وہ قدرت رکھتے
کسی چیز پر
فضل میں سے
اللہ کے
اور بےشک
فضل
اللہ کے ہاتھ میں ہے
وہ دیتا ہے اسے
جسے
وہ چاہتا ہے
اور اللہ
فضل والا ہے
بہت بڑے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
لِّئَلَّا
یَعۡلَمَ
اَہۡلُ الۡکِتٰبِ
اَلَّا
یَقۡدِرُوۡنَ
عَلٰی
شَیۡءٍ
مِّنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ
وَاَنَّ
الۡفَضۡلَ
بِیَدِ اللّٰہِ
یُؤۡتِیۡہِ
مَنۡ یَّشَآءُ
وَاللّٰہُ
ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ
تاکہ نہ
جانیں
اہل کتاب
یہ کہ نہیں
وہ اختیار رکھتے
اوپر
کسی چیز کے
اللہ تعالیٰ کے فضل میں سے
اور یقیناً
فضل
اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے
وہ عطا فرماتا ہے اسے
جسے چاہتا ہے
اور اللہ تعالیٰ
بہت بڑے فضل والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
لِّئَلَّا يَعْلَمَ
اَهْلُ الْكِتٰبِ
اَلَّا يَقْدِرُوْنَ
عَلٰي شَيْءٍ
مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ
وَاَنَّ الْفَضْلَ
بِيَدِ اللّٰهِ
يُؤْتِيْهِ
مَنْ يَّشَآءُ ۭ
وَاللّٰهُ
ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ
تاکہ نہ جان پائیں
اہل کتاب
کہ نہیں وہ قدرت رکھتے
اوپر کسی چیز کے
اللہ کے فضل سے
اور بیشک فضل
اللہ کے ہاتھ میں ہے
دیتا ہے اس کو
جس کو چاہتا ہے
اور اللہ
بڑے فضل والا ہے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔