اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ پیش کرو، یہ تمھارے لیے زیادہ اچھا اور زیادہ پاکیزہ ہے، پھر اگر نہ پاؤ تو یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔[12]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡۤا
اِذَا
نَاجَیۡتُمُ
الرَّسُوۡلَ
فَقَدِّمُوۡا
بَیۡنَ
یَدَیۡ نَجۡوٰىکُمۡ
صَدَقَۃً
ذٰلِکَ
خَیۡرٌ
لَّکُمۡ
وَاَطۡہَرُ
فَاِنۡ
لَّمۡ
تَجِدُوۡا
فَاِنَّ
اللّٰہَ
غَفُوۡرٌ
رَّحِیۡمٌ
اے لوگو جو
ایمان لائے ہو
جب
سرگوشی کرو تم
رسول سے
تو پیش کرو
پہلے
اپنی سرگوشی کے
صدقہ
یہ
بہتر ہے
تمہارے لیے
اور زیادہ پاکیزہ
پھر اگر
نہ
تم پاؤ
تو بےشک
اللہ
بہت بخشنے والا ہے
نہایت رحم کرنے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَیُّہَا
الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡۤا
اِذَا
نَاجَیۡتُمُ
الرَّسُوۡلَ
فَقَدِّمُوۡا
بَیۡنَ یَدَیۡ
نَجۡوٰىکُمۡ
صَدَقَۃً
ذٰلِکَ
خَیۡرٌ
لَّکُمۡ
وَاَطۡہَرُ
فَاِنۡ
لَّمۡ
تَجِدُوۡا
فَاِنَّ
اللّٰہَ
غَفُوۡرٌ
رَّحِیۡمٌ
اے
لوگو جو
ایمان لائے ہو
جب
سرگوشی کروتم
رسول سے
توپیش کیاکرو
پہلے
اپنی سرگوشی سے
صدقہ
یہ
زیادہ بہترہے
تمہارے حق میں
اوربہت پاکیزہ ہے
پھراگر
نہ
پاؤتم
تویقیناً
اللہ تعالیٰ
بے حدبخشنے والا
نہایت رحم والاہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
يٰٓاَيُّهَا
الَّذِيْنَ
اٰمَنُوْٓا
اِذَا
نَاجَيْتُمُ
الرَّسُوْلَ
فَقَدِّمُوْا
بَيْنَ يَدَيْ
نَجْوٰىكُمْ
صَدَقَةً ۭ
ذٰلِكَ
خَيْرٌ لَّكُمْ
وَاَطْهَرُ ۭ
فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا
فَاِنَّ اللّٰهَ
غَفُوْرٌ
رَّحِيْمٌ
اے
جو لوگ
مومن
جب
تم کان میں بات کرو
رسول
تو تم دے دو
پہلے
اپنے سرگوشی
کچھ صدقہ
یہ
بہتر تمہارے لئے
اور زیادہ پاکیزہ
پھر اگر تم نہ پاؤ
تو بیشک اللہ
بخشنے والا
رحم کرنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّمَ:قَدَّمَ اور اَسْلَفَ میں وہی فرق ہے جو ارتفاع اور عمق میں ہے اگر نیچے کے کنارے پر ہوں تو اسی راسی فاصلہ کو بلندی کو کہتے ہیں اوپر کے کنارے پر کھڑے ہوں تو وہی فاصلہ گہرائ یہ عمق کہلاتا ہے وہی بات یا کام جو قدّم کا مفہوم سے موقع کے لحاظ سے وہی اسلف بن جاتا ہے ۔