اور وہ عورتیں جو تمھاری عورتوں میں سے حیض سے ناامید ہو چکی ہیں، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنھیں حیض نہیں آیا اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا ۔[4]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَالّٰٓـِٔىۡ
یَئِسۡنَ
مِنَ الۡمَحِیۡضِ
مِنۡ نِّسَآئِکُمۡ
اِنِ
ارۡتَبۡتُمۡ
فَعِدَّتُہُنَّ
ثَلٰثَۃُ
اَشۡہُرٍ
وَّالّٰٓـِٔىۡ
لَمۡ
یَحِضۡنَ
وَاُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ
اَجَلُہُنَّ
اَنۡ
یَّضَعۡنَ
حَمۡلَہُنَّ
وَمَنۡ
یَّتَّقِ
اللّٰہَ
یَجۡعَلۡ
لَّہٗ
مِنۡ اَمۡرِہٖ
یُسۡرًا
اور وہ عورتیں
جو مایوس ہو چکی ہوں
حیض سے
تمہاری عورتوں میں سے
اگر
شک ہو تمہیں
تو عدت ان کی
تین
ماہ ہے
اور ان عورتوں(کی بھی)جو
نہیں
وہ حائضہ ہوئیں
اور حمل والیاں
عدت ان کی(یہ ہے)
کہ
وہ وضع کر دیں
حمل اپنا
اور جو کوئی
ڈرے گا
اللہ سے
وہ کر دے گا
اس کے لیے
اس کے کام میں
آسانی
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَالّٰٓـِٔىۡ
یَئِسۡنَ
مِنَ الۡمَحِیۡضِ
مِنۡ نِّسَآئِکُمۡ
اِنِ
ارۡتَبۡتُمۡ
فَعِدَّتُہُنَّ
ثَلٰثَۃُ
اَشۡہُرٍ
وَّالّٰٓـِٔىۡ
لَمۡ
یَحِضۡنَ
وَاُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ
اَجَلُہُنَّ
اَنۡ
یَّضَعۡنَ
حَمۡلَہُنَّ
وَمَنۡ
یَّتَّقِ
اللّٰہَ
یَجۡعَلۡ
لَّہٗ
مِنۡ اَمۡرِہٖ
یُسۡرًا
اورجو عورتیں
مایوس ہوچکی ہوں
حیض سے
تمہاری عورتوں میں سے
اگر
تمہیں شک ہو
توعدت ان کی
تین
ماہ ہے
اورانکی جنہیں
نہیں
حیض آیا
اور حمل والی عورتیں
عدت ان کی
یہ کہ
وہ وضع کردیں
حمل اپنا
اورجو
ڈرےگا
اللہ تعالیٰ سے
کردےگا
اس کے لیے
اس کے کام سے
آسانی
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَ الّٰٓئِیْ يَئِسْنَ
مِنَ الْمَحِيْضِ
مِنْ نِّسَآئِكُمْ
اِنِ ارْتَبْتُمْ
فَعِدَّتُهُنَّ
ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ
وَ الّٰٓئِیْ لَمْ
يَحِضْنَ
وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ
اَجَلُهُنَّ
اَنْ
يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ
وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ
يَجْعَلْ لَّهٗ
مِنْ اَمْرِهٖ
يُسْرًا
اور وہ عورتیں جو مایوس ہوچکی ہوں
حیض سے
تمہاری عورتوں میں سے
اگر شک ہو تم کو
تو ان کی عدت
تین مہینے ہے
اور وہ عورتیں ، نہیں
جنہیں ابھی حیض آیا ہو۔ جو حائضہ ہوئی ہوں
اور حمل والیاں
ان کی عدت
کہ
وہ رکھ دیں اپنا حمل
اور جو ڈرے گا اللہ سے
وہ کردے گا اس کے لیے
اس کے کام میں
آسانی
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]