اے لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر پوری طرح قائم رہنے والے، اللہ کے لیے شہادت دینے والے بن جائو، خواہ تمھاری ذاتوں یا والدین اور زیادہ قرابت والوں کے خلاف ہو، اگر کوئی غنی ہے یا فقیر تو اللہ ان دونوں پر زیادہ حق رکھنے والا ہے۔ پس اس میں خواہش کی پیروی نہ کرو کہ عدل کرو اور اگر تم زبان کو پیچ دو، یا پہلو بچائو تو بے شک اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پوری طرح با خبر ہے۔[135]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡا
کُوۡنُوۡا
قَوّٰمِیۡنَ
بِالۡقِسۡطِ
شُہَدَآءَ
لِلّٰہِ
وَلَوۡ
عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ
اَوِ الۡوَالِدَیۡنِ
وَالۡاَقۡرَبِیۡنَ
اِنۡ
یَّکُنۡ
غَنِیًّا
اَوۡ
فَقِیۡرًا
فَاللّٰہُ
اَوۡلٰی
بِہِمَا
فَلَا
تَتَّبِعُوا
الۡہَوٰۤی
اَنۡ
تَعۡدِلُوۡا
وَاِنۡ
تَلۡوٗۤا
اَوۡ
تُعۡرِضُوۡا
فَاِنَّ
اللّٰہَ
کَانَ
بِمَا
تَعۡمَلُوۡنَ
خَبِیۡرًا
اے لوگو جو
ایمان لائے ہو
ہو جاؤ
قائم ہونے والے
انصاف پر
گواہی دینے والے
اللہ کے لیے
اور اگرچہ
خلاف ہو تمہارے اپنے
یا والدین کے
اور قرابت داروں کے
اگر
وہ ہوں گے
غنی
یا
فقیر
تو اللہ تعالی
زیادہ خیر خواہ ہے
ان دونو کا
تو نہ
تم پیروی کرو
خواہشات کی
کہ
نہ) تم عدل کرو
اور اگر
تم موڑ دو گے (زبان)
یا
تم اعرض کرو گے
تو بےشک
اللہ تعالی
ہے
اس کی جو
تم عمل کرتے ہو
خوب خبر رکھنے والا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡا
کُوۡنُوۡا
قَوّٰمِیۡنَ
بِالۡقِسۡطِ
شُہَدَآءَ
لِلّٰہِ
وَلَوۡ
عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ
اَوِ الۡوَالِدَیۡنِ
وَالۡاَقۡرَبِیۡنَ
اِنۡ
یَّکُنۡ
غَنِیًّا
اَوۡ فَقِیۡرًا
فَاللّٰہُ
اَوۡلٰی
بِہِمَا
فَلَا
تَتَّبِعُوا
الۡہَوٰۤی
اَنۡ
تَعۡدِلُوۡا
وَاِنۡ
تَلۡوٗۤا
اَوۡ
تُعۡرِضُوۡا
فَاِنَّ
اللّٰہَ
کَانَ
بِمَا
تَعۡمَلُوۡنَ
خَبِیۡرًا
اے لوگو جو
ایمان لائے ہو
تم ہو جاؤ
پوری طرح قائم رہنے والے
انصاف پر
گواہی دینے والے
اللہ تعالیٰ کے لیے
اور اگرچہ
تمہاری جانوں کے خلاف ہو
یا والدین کے
اور رشتہ داروں کے
اگر
ہو وہ
مالدار
یا فقیر
تو اللہ تعالیٰ
زیادہ حقدار ہے
ان دونوں پر
چنانچہ نہ
تم اتباع کرو
خواہش نفس کی
یہ کہ
تم عدل کرو
اور اگر
تم زبان کو پیچ دو
یا
تم پہلو تہی کرو
تو یقیناً
اللہ تعالیٰ
۔(ہمیشہ سے)ہے
ساتھ اس کےجو
تم عمل کرتے ہو
پوری طرح با خبر
حافظ نذر احمد حفظه الله
يٰٓاَيُّھَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
كُوْنُوْا
قَوّٰمِيْنَ
بِالْقِسْطِ
شُهَدَآءَ لِلّٰهِ
وَلَوْ
عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ
اَوِ
الْوَالِدَيْنِ
وَ
الْاَقْرَبِيْنَ
اِنْ يَّكُنْ
غَنِيًّا
اَوْ فَقِيْرًا
فَاللّٰهُ
اَوْلٰى
بِهِمَا
فَلَا
تَتَّبِعُوا
الْهَوٰٓى
اَنْ تَعْدِلُوْا
وَاِنْ تَلْوٗٓا
اَوْ تُعْرِضُوْا
فَاِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
خَبِيْرًا
اے
جو لوگ ایمان لائے (ایمان والے)
ہوجاؤ
قائم رہنے والے
انصاف پر
گواہی دینے والے اللہ کیلئے
اگرچہ
خود تمہارے اوپر (خلاف)
یا
ماں باپ
اور
قرابت دار
اگر (چاہے) ہو
کوئی مالدار
یا محتاج
پس اللہ
خیر خواہ
ان کا
سو۔ نہ
پیروی کرو
خواہش
کہ انصاف کرو
اور اگر تم زبان دباؤ گے
یا پہلو تہی کروگے
تو بیشک
اللہ
ہے
جو
تم کرتے ہو
باخبر
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قِسْط:کا لفظ دوسرے کو اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ یکمیشت ہو یا بالا قساط۔ خصوصاً جبکہ باب افعال سے ہو اور اس کا تعلق ظاہری چیزوں سے ہوتا ہے۔
عَدْل:دوسرے کو اس کا پورا پورا حق یا اس کی مالیت کے برابر اس کا عوض دینا اور تناسب اور مساوات کو ملحوظ رکھنا اور اس کا استعمال ظاہری اور باطنی اموار میں عام ہیں۔