اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر خوب قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جائو اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ اس سے پوری طرح با خبر ہے جو تم کرتے ہو۔[8]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَیُّہَاالَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡا
کُوۡنُوۡا
قَوّٰمِیۡنَ
لِلّٰہِ
شُہَدَآءَ
بِالۡقِسۡطِ
وَلَا
یَجۡرِمَنَّکُمۡ
شَنَاٰنُ
قَوۡمٍ
عَلٰۤی
اَلَّا
تَعۡدِلُوۡا
اِعۡدِلُوۡا
ہُوَ
اَقۡرَبُ
لِلتَّقۡوٰی
وَاتَّقُوا
اللّٰہَ
اِنَّ
اللّٰہَ
خَبِیۡرٌۢ
بِمَا
تَعۡمَلُوۡنَ
اے لوگو جو
ایمان لائے ہو
ہوجاؤ تم
قائم رہنے والے
اللہ کے لیے
گواہ
ساتھ انصاف کے
اور نہ
ہر گز آمادہ کرے تمہیں
دشمنی
کسی قوم کی
اس پر
کہ نہ
تم عدل کرو گے
عدل کرو
وہ
زیادہ قریب ہے
تقوی کے
اور ڈرو
اللہ سے
بیشک
اللہ
خوب خبر رکھنے والا ہے
اس کی جو
تم عمل کرتے ہو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَیُّہَاالَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡا
کُوۡنُوۡا
قَوّٰمِیۡنَ
لِلّٰہِ
شُہَدَآءَ
بِالۡقِسۡطِ
وَلَا
یَجۡرِمَنَّکُمۡ
شَنَاٰنُ
قَوۡمٍ
عَلٰۤی
اَلَّا
تَعۡدِلُوۡا
اِعۡدِلُوۡا
ہُوَ
اَقۡرَبُ
لِلتَّقۡوٰی
وَاتَّقُوا
اللّٰہَ
اِنَّ
اللّٰہَ
خَبِیۡرٌۢ
بِمَا
تَعۡمَلُوۡنَ
اے لوگو جو
ایمان لائے ہو
تم بن جاؤ
خوب قائم رہنے والے
اللہ تعالیٰ کے لئے
گواہی دینے والے
ساتھ انصاف کے
اور ہر گز نہ
مجرم بنا دے تمہیں
دشمنی
کسی قوم کی
اوپر
اس (بات) کےکہ نہ
تم عدل کرو
تم عدل کرو
وہ
زیادہ قریب ہے
تقویٰ کے لئے
اور تم ڈر جاؤ
اللہ تعالیٰ سے
یقیناً
اللہ تعالیٰ
پوری طرح باخبر ہے
ساتھ اس کے جو
تم عمل کرتے ہو
حافظ نذر احمد حفظه الله
يٰٓاَيُّھَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
كُوْنُوْا
قَوّٰمِيْنَ
لِلّٰهِ
شُهَدَآءَ
بِالْقِسْطِ
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ
شَنَاٰنُ
قَوْمٍ
عَلٰٓي
اَلَّا تَعْدِلُوْا
اِعْدِلُوْا
هُوَ
اَقْرَبُ
لِلتَّقْوٰى
وَاتَّقُوا
اللّٰهَ
اِنَّ اللّٰهَ
خَبِيْرٌ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
اے
جو لوگ ایمان لائے (ایمان والے)
ہوجاؤ
کھڑے ہونے والے
اللہ کے لیے
گواہ
انصاف کے ساتھ
اور تمہیں نہ ابھارے
دشمنی
کسی قوم
پر
کہ انصاف نہ کرو
تم انصاف کرو
وہ (یہ)
زیادہ قریب
تقوی کے
اور ڈرو
اللہ
بیشک اللہ
خوب باخبر
جو
تم کرتے ہو
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قِسْط:کا لفظ دوسرے کو اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ یکمیشت ہو یا بالا قساط۔ خصوصاً جبکہ باب افعال سے ہو اور اس کا تعلق ظاہری چیزوں سے ہوتا ہے۔
عَدْل:دوسرے کو اس کا پورا پورا حق یا اس کی مالیت کے برابر اس کا عوض دینا اور تناسب اور مساوات کو ملحوظ رکھنا اور اس کا استعمال ظاہری اور باطنی اموار میں عام ہیں۔
عَدْل:دوسرے کو اس کا پورا پورا حق یا اس کی مالیت کے برابر اس کا عوض دینا اور تناسب اور مساوات کو ملحوظ رکھنا اور اس کا استعمال ظاہری اور باطنی اموار میں عام ہیں۔