تمھارے لیے سمندر کا شکار حلال کر دیا گیا اور اس کا کھانا بھی، اس حال میں کہ تمھارے لیے سامان زندگی ہے اور قافلے کے لیے اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا ہے، جب تک تم احرام والے رہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔[96]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اُحِلَّ
لَکُمۡ
صَیۡدُ
الۡبَحۡرِ
وَطَعَامُہٗ
مَتَاعًا
لَّکُمۡ
وَلِلسَّیَّارَۃِ
وَحُرِّمَ
عَلَیۡکُمۡ
صَیۡدُ الۡبَرِّ
مَادُمۡتُمۡ
حُرُمًا
وَاتَّقُوا
اللّٰہَ
الَّذِیۡۤ
اِلَیۡہِ
تُحۡشَرُوۡنَ
حلال کیا گیا ہے
تمہارے لیے
شکار
سمندر کا
اور کھانا اس کا
فائدہ مند ہے
تمہارے لیے
اور قافلے کے لیے
اور حرام کیا گیا
تم پر
خشکی کا شکار
جب تک تم ہو
احرام میں
اور ڈرو
اللہ سے
وہ جو
طرف اسی کے
تم اکٹھے کیے جاؤ گے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اُحِلَّ
لَکُمۡ
صَیۡدُ
الۡبَحۡرِ
وَطَعَامُہٗ
مَتَاعًا
لَّکُمۡ
وَلِلسَّیَّارَۃِ
وَحُرِّمَ
عَلَیۡکُمۡ
صَیۡدُ
الۡبَرِّ
مَادُمۡتُمۡ
حُرُمًا
وَاتَّقُوا
اللّٰہَ
الَّذِیۡۤ
اِلَیۡہِ
تُحۡشَرُوۡنَ
حلال کردیاگیا
تمھارے لئے
شکار
سمندر کا
اور کھانا اُس کا
سامانِ زندگی ہے
تمھارے لئے
اور قافلوں کیلئے
اور حرام کر دیا گیا
تم پر
شکار
خشکی کا
جب تک ہو تم
حالتِ احرام میں
اور تم ڈر جاؤ
اللہ تعالیٰ سے
وہ جو
جس کی طرف
تم اکٹھے کیے جاؤ گے
حافظ نذر احمد حفظه الله
اُحِلَّ
لَكُمْ
صَيْدُ الْبَحْرِ
وَطَعَامُهٗ
مَتَاعًا
لَّكُمْ
وَلِلسَّيَّارَةِ
وَحُرِّمَ
عَلَيْكُمْ
صَيْدُ الْبَرِّ
مَا
دُمْتُمْ
حُرُمًا
وَاتَّقُوا
اللّٰهَ
الَّذِيْٓ
اِلَيْهِ
تُحْشَرُوْنَ
حلال کیا گیا
تمہارے لیے
دریا کا شکار
اور اس کا کھانا
فائدہ
تمہارے لیے
اور مسافروں کے لیے
اور حرام کیا گیا
تم پر
جنگل کا شکار
جب تک
تم ہو
حالت احرام میں
اور ڈرو
اللہ
وہ جو
اس کی طرف
تم جمع کیے جاؤگے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]