اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔[17]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِنۡ
یَّمۡسَسۡکَ
اللّٰہُ
بِضُرٍّ
فَلَا
کَاشِفَ
لَہٗۤ
اِلَّا
ہُوَ
وَاِنۡ
یَّمۡسَسۡکَ
بِخَیۡرٍ
فَہُوَ
عَلٰی
کُلِّ
شَیۡءٍ
قَدِیۡرٌ
اور اگر
پہنچائے آپ کو
اللہ
کوئی نقصان
تو نہیں
کوئی دور کرنے والا
اسے
مگر
وہی
اور اگر
وہ پہنچائے آپ کو
کوئی بھلائی
تو وہ
اوپر
ہر
چیز کے
خوب قدرت رکھنے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِنۡ
یَّمۡسَسۡکَ
اللّٰہُ
بِضُرٍّ
فَلَا
کَاشِفَ
لَہٗۤ
اِلَّا
ہُوَ
وَاِنۡ
یَّمۡسَسۡکَ
بِخَیۡرٍ
فَہُوَ
عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ
قَدِیۡرٌ
اور اگر
پہنچائے آپ کو
اللہ تعالیٰ
کوئی نقصان
تو نہیں
کوئی دور کرنے والا
اس کے لیے
مگر
وہی
اور اگر
وہ پہنچائے آپ کو
کوئی بھلائی
تو وہی
ہر چیز پر
پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِنْ
يَّمْسَسْكَ
اللّٰهُ
بِضُرٍّ
فَلَا
كَاشِفَ
لَهٗٓ
اِلَّا هُوَ
وَاِنْ
يَّمْسَسْكَ
بِخَيْرٍ
فَهُوَ
عَلٰي
كُلِّ شَيْءٍ
قَدِيْرٌ
اور اگر
تمہیں پہنچائے
اللہ
کوئی سختی
تو نہیں
دور کرنے والا
اس کا
اس کے سوا
اور اگر
وہ ہپنچائے تمہیں
کوئی بھلائی
تو وہ
پر
ہر شے
قادر
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔