اور جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو کہہ سلام ہے تم پر، تمھارے رب نے رحم کرنا اپنے آپ پر لازم کر لیا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ تم میں سے جو شخص جہالت سے کوئی برائی کرے، پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔[54]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِذَا
جَآءَکَ
الَّذِیۡنَ
یُؤۡمِنُوۡنَ
بِاٰیٰتِنَا
فَقُلۡ
سَلٰمٌ
عَلَیۡکُمۡ
کَتَبَ
رَبُّکُمۡ
عَلٰی نَفۡسِہِ
الرَّحۡمَۃَ
اَنَّہٗ
مَنۡ
عَمِلَ
مِنۡکُمۡ
سُوۡٓءًۢ
ابِجَہَالَۃٍ
ثُمَّ
تَابَ
مِنۡۢ بَعۡدِہٖ
وَ اَصۡلَحَ
فَاَنَّہٗ
غَفُوۡرٌ
رَّحِیۡمٌ
اور جب
آئیں آپ کے پاس
وہ جو
ایمان لاتے ہیں
ہماری آیات پر
پس کہہ دیجیے
سلام ہو
تم پر
لکھ دی
تمہارے رب نے
اپنے نفس پر
رحمت
کہ بےشک وہ
جو
عمل کرے
تم میں سے
برے
بوجہ جہالت کے
پھر
توبہ کرلے
اس کے بعد
اور اصلاح کرلے
تو بےشک وہ
بہت بخشنے والا ہے
نہایت رحم کرنے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِذَا
جَآءَکَ
الَّذِیۡنَ
یُؤۡمِنُوۡنَ
بِاٰیٰتِنَا
فَقُلۡ
سَلٰمٌ
عَلَیۡکُمۡ
کَتَبَ
رَبُّکُمۡ
عَلٰی نَفۡسِہِ
الرَّحۡمَۃَ
اَنَّہٗ
مَنۡ
عَمِلَ
مِنۡکُمۡ
سُوۡٓءًۢ
ابِجَہَالَۃٍ
ثُمَّ
تَابَ
مِنۡۢ بَعۡدِہٖ
وَ اَصۡلَحَ
فَاَنَّہٗ
غَفُوۡرٌ
رَّحِیۡمٌ
اور جب
آئیں آپ کے پاس
وہ لوگ جو
ایمان رکھتے ہیں
ہماری آیات پر
تو آپ کہہ دیں
سلام ہو
تم پر
لکھ رکھی ہے
تمہارے رب نے
اپنی ذات پر
رحمت
یقیناً وہ
جو
کرے
تم میں سے
بُرائی
نادانی میں
پھر
اُس نے توبہ کی
بعد اس کے
اوراس نے اصلاح کر لی
تو یقیناً وہ
بے حد بخشنے والا
نہایت رحم والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِذَا
جَآءَكَ
الَّذِيْنَ
يُؤْمِنُوْنَ
بِاٰيٰتِنَا
فَقُلْ
سَلٰمٌ
عَلَيْكُمْ
كَتَبَ
رَبُّكُمْ
عَلٰي
نَفْسِهِ
الرَّحْمَةَ
اَنَّهٗ
مَنْ
عَمِلَ
مِنْكُمْ
سُوْٓءًۢا
بِجَهَالَةٍ
ثُمَّ
تَابَ
مِنْۢ بَعْدِهٖ
وَاَصْلَحَ
فَاَنَّهٗ
غَفُوْرٌ
رَّحِيْمٌ
اور جب
آپ کے پاس آئیں
وہ لوگ
ایمان رکھتے ہیں
ہماری آیتیں
تو کہ دیں
سلام
تم پر
لکھ لی
تمہارا رب
پر
اپنی ذات
رحمت
کہ
جو
کرے
تم سے
کوئی برائی
نادانی سے
پھر
توبہ کرے
اس کے بعد
اور نیک ہوجائے
تو بیشک اللہ
بخشنے والا
مہربان
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]