صبح کو پھاڑ نکالنے والا ہے اور اس نے رات کو آرام اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنایا۔ یہ اس زبردست غالب، سب کچھ جاننے والے کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔[96]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَالِقُ
الۡاِصۡبَاحِ
وَجَعَلَ
الَّیۡلَ
سَکَنًا
وَّالشَّمۡسَ
وَالۡقَمَرَ
حُسۡبَانًا
ذٰلِکَ
تَقۡدِیۡرُ
الۡعَزِیۡزِ
الۡعَلِیۡمِ
پھاڑنے والا ہے
صبح کا
اور اس نے بنایا
رات کو
باعث سکون
اور سورج
اور چاند کو
حساب کاذریعہ
یہ
اندازہ ہے
بہت زبردست کا
بہت علم والے کا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَالِقُ
الۡاِصۡبَاحِ
وَجَعَلَ
الَّیۡلَ
سَکَنًا
وَّالشَّمۡسَ
وَالۡقَمَرَ
حُسۡبَانًا
ذٰلِکَ
تَقۡدِیۡرُ
الۡعَزِیۡزِ
الۡعَلِیۡمِ
پھاڑ نکالنے والا ہے
صبح کا
اوراس نے بنایا
رات کو
سکون کا باعث
اور سورج کو
اور چاند کو
حساب کا ذریعہ
یہ
اندازہ ہے
سب پر غالب
سب کچھ جاننے والے کا
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَالِقُ
الْاِصْبَاحِ
وَجَعَلَ
الَّيْلَ
سَكَنًا
وَّالشَّمْسَ
وَالْقَمَرَ
حُسْبَانًا
ذٰلِكَ
تَقْدِيْرُ
الْعَزِيْزِ
الْعَلِيْمِ
چیر کر (چاک کر کے) نکالنے والا
صبح
اور اس نے بنایا
رات
سکون
اور سورج
اور چاند
حساب
یہ
اندازہ
غالب
علم والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔