🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر احسن البیان
سورة العنكبوت
وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ ۫ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۸﴾
اور حضرت لوط ؑ کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم بدکاری پر اتر آئے ہو 1 جسے تم سے پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیا۔[28]
تفسیر احسن البیان
28-1اس بدکاری سے مراد وہی لواطت ہے جس کا ارتکاب قوم لوط ؑ نے سب سے پہلے کیا جیسا کہ قرآن نے صراحت کی ہے۔