🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الحجر
وَ لَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّکَ یَضِیۡقُ صَدۡرُکَ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۹۷﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم جانتے ہیں کہ تیرا سینہ اس سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔[97]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت97){وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ …: } اللہ تعالیٰ نے کفار کے استہزا اورکفر و شرک پر اصرار سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت تاکید والے الفاظ میں تسلی دی۔چنانچہ لام تاکید اور {قَدْ} برائے تحقیق کے ساتھ اس بات کا اظہار فرمایا کہ ہم آپ کے حالات سے بے خبر نہیں، بلکہ ہر وقت ہماری توجہ آپ کی طرف ہے، اب بھی اور آئندہ بھی اور ہم جانتے ہیں کہ یقینا آپ کاسینہ ان کی باتوں سے تنگ پڑجاتاہے۔