جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس سے بہتر بدلہ ہے اور وہ اس دن گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے۔[89]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 89) ➊ {مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا:} نیکی سے مراد ہر نیک کام ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد {” لاَ اِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ “}، بعض نے اخلاص اور بعض نے فرائض کا ادا کرنا لیا ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے عام رکھا جائے، کیونکہ تخصیص کی کوئی وجہ نہیں۔ (شوکانی) {” خَيْرٌ مِّنْهَا “} سے مراد دس گنا سے سات سو گنا تک ہے، بلکہ نیکی میں زیادہ اخلاص اور حسنِ ادا کی برکت سے بغیر حساب بھی ہو سکتا ہے۔
➋ { وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ: ” فَزَعٍ “} پر تنوین تعظیم کی ہے، یعنی وہ اس دن بڑی گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «{ لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ }»[ الأنبیاء: ۱۰۳ ]”انھیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی۔“ اگر کم درجہ کی گھبراہٹ ہو تو اس آیت کے منافی نہیں، جیسا کہ آیت (۸۷) میں گزر چکا ہے۔