🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الرحمٰن
ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ ﴿ۚ۴۸﴾
دونوں بہت شاخوں والے ہیں۔[48]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 48) {ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍ: اَفْنَانٍ فَنَنٌ} کی جمع ہے، سیدھی لمبی شاخ اور { فَنٌّ } کی جمع بھی ہے جس کا معنی نوع ہے۔ بہت شاخوں والے سے مراد شاخوں، پتوں اور پھلوں کی کثرت ہے، ورنہ باغوں کی ٹہنیاں تو ہوتی ہی ہیں اور اگر { اَفْنَانٍ فَنٌّ} کی جمع ہو تو مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں باغ بہت سی قسموں کے پودوں اور درختوں والے ہیں۔