🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأعراف
فَتَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُکُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَ نَصَحۡتُ لَکُمۡ ۚ فَکَیۡفَ اٰسٰی عَلٰی قَوۡمٍ کٰفِرِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾
پھر وہ ان سے واپس لوٹا اور اس نے کہا اے میری قوم! بلاشبہ یقینا میں نے تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے اور میں نے تمھاری خیرخواہی کی، تو میں نہ ماننے والے لوگوں پر کیسے غم کروں۔[93]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
93۔ شعیب انہیں یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا کہ: اے میری قوم! میں نے تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا تھا اور (ممکن حد تک) میں تمہاری خیر خواہی کرتا رہا۔ تو اب میں ان لوگوں پر کیسے افسوس [99] کروں جو انکار ہی کرتے رہے
[99] عذاب سے پہلے قوم سے خطاب:۔

یعنی افسوس تو اس پر آتا ہے کہ جو بے چارا بھول چوک یا نادانستگی میں مارا جائے اور جو انجام سمجھانے کے باوجود آگے سے اکڑتا چلا جائے اور اسے اپنی خیر خواہی کی بات سننا بھی گوارا نہ ہو اس پر افسوس آبھی کیسے سکتا ہے؟ اس نے تو دیدہ دانستہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا تھا۔