اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول اس کی تصدیق کرنے والا آیا جو ان کے پاس ہے تو ان لوگوں میں سے ایک گروہ نے، جنھیں کتاب دی گئی تھی، اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، جیسے وہ نہیں جانتے۔[101]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
101۔ اور جب بھی ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ایسا رسول آیا جو ان کے پاس موجود کتاب کی تصدیق بھی کرتا تھا تو انہی اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو یوں اپنے پس پشت [117] ڈال دیا۔ جیسے وہ (اسے) جانتے ہی نہیں
[117] یہود کا آیات کو پس پشت ڈال دینا:۔
یہاں دوبارہ یہود کے اس کردار پر گرفت کی گئی ہے کہ تورات میں مذکور نشانیوں کے مطابق یہود نے نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری طرح پہچان تو لیا۔ مگر ایمان لانے سے انکار کرنے کے بعد انہوں نے اس کتاب کے ان حصوں کو یوں فراموش کر دیا جیسے وہ انہیں کبھی جانتے ہی نہ تھے۔