🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة البقرة
وَ اِذۡ یَرۡفَعُ اِبۡرٰہٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَیۡتِ وَ اِسۡمٰعِیۡلُ ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۲۷﴾
اور جب ابراہیم اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہا تھا اور اسماعیل بھی۔ اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، بے شک تو ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔[127]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
127۔ اور جب ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ بیت اللہ [156] کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو انہوں نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے۔ بلا شبہ تو ہی سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
[156] مختلف ادوار میں کعبہ کی تعمیر:۔

قسطلانی رحمہ اللہ نے کہا کہ کعبہ دس بار تعمیر ہوا۔ سب سے پہلے اسے فرشتوں نے بنایا۔ دوسری بار آدمؑ نے (آپؑ کی عمر ہزار سال تھی) تیسری بار شیثؑ (آدم کے بیٹے) نے اور یہ تعمیر طوفان نوحؑ میں گر گئی۔ چوتھی بار حضرت ابراہیمؑ نے پانچویں بار قوم عمالقہ نے، چھٹی بار قبیلہ جرہم نے، ساتویں بار قصی بن کلاب نے (جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں) آٹھویں بار قریش نے (آپ کی بعثت سے پہلے جب کہ حطیم کی جگہ چھوڑ دی تھی) نویں بار حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے (اپنے دور خلافت میں) دسویں بار حجاج بن یوسف نے۔ اور اس کے بعد آج تک اس علاقہ پر مسلمانوں کا ہی قبضہ چلا آ رہا ہے اور بہت سے بادشاہوں نے اس کی تعمیر، مرمت اور توسیع میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور یہ سلسلہ تا ہنوز جاری ہے۔ اس سلسلہ میں آل سعود کی خدمات گرانقدر ہیں اور لائق تحسین ہیں۔