اور جب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان کا بعض بعض کی طرف دیکھتا ہے کہ کیا تمھیں کوئی دیکھ رہا ہے ؟ پھر واپس پلٹ جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں، اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے۔[127]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
127۔ اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ منافق آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کی طرف اشارہ کر کے پوچھتے ہیں کہ: ”کیا تمہیں کوئی (مسلمان) تو نہیں دیکھ رہا؟“[146] پھر وہاں سے واپس چلے جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں کو (راہ حق سے) پھیر دیا ہے کیونکہ یہ لوگ ہیں ہی ایسے جو کچھ [147] بھی نہیں سمجھتے
[146] وحی نازل ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کو مسجد میں بلا کر وحی سنانا:۔
جب کوئی سورت نازل ہوتی تو بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو مسجد نبوی میں بلا کر بطور خطبہ انہیں یہ سورت سنا دیا کرتے۔ اب منافقوں کی مجبوری یہ تھی کہ انہیں ایسے اعلان پر مسجد میں جانا پڑتا تھا اور اپنے آپ سے نفاق کا شبہ دور کرنے کے لیے انہیں ایسی حاضری لگوانا ہی پڑتی تھی مگر اس بیگار کو زیادہ دیر تک برداشت بھی نہ کر سکتے تھے اور چاہتے یہ تھے کہ حاضری لگوانے کے بعد فوراً مسلمانوں سے نظریں بچا کر نکل جائیں اور ان میں سے اکثر یہی کچھ کرتے تھے۔ تو جب ان لوگوں نے رشد و ہدایت کی مجلس سے یوں بھاگنا شروع کیا تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ویسا ہی بنا دیا۔
[147] یعنی ہر سال ایک یا دو دفعہ رسوا ہونے کے باوجود انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ہمیں اس رسوائی سے نجات کیسے مل سکتی ہے اور اس کے بجائے عزت کیسے نصیب ہو سکتی ہے نیز ہماری دین و دنیا کی بھلائی کس بات میں ہے۔