🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة يوسف
قَالَ ہِیَ رَاوَدَتۡنِیۡ عَنۡ نَّفۡسِیۡ وَ شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ اِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتۡ وَ ہُوَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۲۶﴾
اس (یوسف)نے کہا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے اور اس عورت کے گھر والوں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر اس کی قمیص آگے سے پھاڑی گئی ہو تو عورت نے سچ کہا اور یہ جھوٹوں سے ہے۔[26]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
26۔ یوسف نے کہا: (بات یوں نہیں بلکہ) اس نے مجھے اپنی طرف ورغلانا چاہا تھا اور اس (زلیخا) کے خاندان میں سے ایک گواہ نے (قرائن کی بنا پر) شہادت دیتے ہوئے کہا: اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی تو عورت سچی اور یوسف جھوٹا ہے
آیت 26 کی تفسیر اگلی آیت کے ساتھ ملاحظہ کیجئے۔