🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة يوسف
قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡکُوۡا بَثِّیۡ وَ حُزۡنِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ وَ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾
اس نے کہا میں تو اپنی ظاہر ہوجانے والی بے قراری اور اپنے غم کی شکایت صرف اللہ کی جناب میں کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔[86]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
86۔ یعقوب نے جواب دیا: میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد (اللہ کے سوا) کسی سے نہیں کرتا۔ اور اللہ سے میں کچھ ایسی چیزیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں [83] جانتے
[83] اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے:۔

باپ کے منہ سے آہ سن کر بھی حاسد بیٹوں کو ان پر رحم نہ آیا بلکہ الٹا باپ کو ملامت کرنے لگے کہ اب اس کے قصہ کو چھوڑتے بھی ہو یا نہیں؟ یا اسی کے غم میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے؟ مغموم باپ نے انھیں جواب دیا کہ میں تمہیں تو کچھ نہیں کہتا۔ تم نے جو کچھ چاہا کر لیا۔ میں تو اپنی پریشان حالی کو اللہ کے سامنے پیش کرتا اور اسی سے صبر کی توفیق چاہتا ہوں۔ کیونکہ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یوسف ابھی زندہ ہے جسے اللہ نے مجھ سے دور کر دیا ہے۔ کیونکہ سیدنا یوسفؑ کو جو خواب آیا تھا اس وجہ سے آپ کو یقین تھا کہ یقیناً یوسفؑ زندہ ہے اور کسی نہ کسی دن ضرور اس سے ملاقات ہو گی اور وہ خواب پورا ہوکے رہے گا اور یہی وہ بات تھی جسے یعقوبؑ تو جانتے تھے لیکن ان کے بیٹے نہیں جانتے تھے اور آپ اپنے بیٹوں کو یہ بات بتانا بھی نہیں چاہتے تھے کہ کہیں حسد کے مارے جل بھن نہ جائیں۔