🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة البقرة
اِذۡ تَبَرَّاَ الَّذِیۡنَ اتُّبِعُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡا وَ رَاَوُا الۡعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتۡ بِہِمُ الۡاَسۡبَابُ ﴿۱۶۶﴾
جب وہ لوگ جن کی پیروی کی گئی تھی، ان لوگوں سے بالکل بے تعلق ہو جائیں گے جنھوں نے پیروی کی اور وہ عذاب کو دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات بالکل منقطع ہو جائیں گے۔[166]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
166۔ جب پیشوا قسم کے لوگ جن کی دنیا میں پیروی کی جاتی تھی۔ عذاب کو [205] دیکھیں گے تو اپنے پیروؤں (مریدوں) سے بے زار ہو جائیں گے اور ان کے باہمی تعلقات منقطع ہو جائیں گے
[205] اس دنیا میں تو عالم اسباب کی بہت سی باتیں انسان کی آنکھوں سے مخفی ہیں۔ مگر قیامت کو جب یہ سب اسباب واضح طور پر دیکھ لیں گے تب انہیں معلوم ہو گا کہ تصرف و اقتدار کے جملہ اختیارات تو صرف اللہ ہی کو حاصل تھے اور حاصل ہیں۔ اور ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ مگر اس وقت ان کی یہ ندامت کسی کام نہ آئے گی اور سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔