اور اگر کبھی ہم واقعی تجھے اس کا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، یا واقعی تجھے اٹھا لیں تو تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔[40]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
40۔ (اے نبی)! جس عذاب کی ہم ان کافروں کو دھمکی دے رہے ہیں اس کا کچھ حصہ خواہ آپ کے جیتے جی آپ کو دکھا دیں یا آپ کے وفات پا جانے کے بعد انھیں عذاب دیں، آپ کے ذمہ تو پہچانا ہی ہے اور حساب لینا [52] ہمارا کام ہے
[52] کفار مکہ پر عذاب آپ کے جیتے بھی اور بعد میں بھی:۔
اس آیت میں بھی کافروں کے اس مطالبہ کا جواب ہے کہ اگر تم سچے ہو تو اب تک ہم پر عذاب آ جانا چاہیے تھا یا کیوں نہیں آتا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ آپ کے ذمہ صرف دعوت دین اور اس کی تبلیغ ہے آپ یہی کام کرتے جائیے۔ ان منکرین سے نمٹنا اللہ کا کام ہے اور جس عذاب کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں وہ بھی ان پر آکے رہے گا۔ اس عذاب کا کچھ حصہ تو آپ اپنی زندگی میں جیتے جی دیکھ لیں گے اور کچھ حصہ آپ کی زندگی کے بعد ان کو دیا جائے گا اور اس طرح ان کا یہ مطالبہ بھی پورا کر دیا جائے گا۔ پھر ان منکرین کو آپ کے جیتے جی جو سزائیں ملیں ان کا ذکر قرآن اور حدیث میں وضاحت سے موجود ہے اور جو آپ کی زندگی کے بعد ملیں ان کا ذکر احادیث و آثار و تاریخ میں مل جاتا ہے۔