اور وہ تیرے رب کے سامنے صفیں باندھے ہوئے پیش کیے جائیں گے، بلاشبہ یقینا تم ہمارے پاس اسی طرح آئے ہو جیسے ہم نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا، بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہم تمھارے لیے کبھی وعدے کا کوئی وقت مقرر نہیں کریں گے۔[48]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
48۔ اور وہ اپنے پروردگار کے حضور صف بستہ پیش کئے جائیں گے (تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے) آخر تم ہمارے پاس اسی طرح آ گئے جیسے ہم نے پہلی بار [44] تمہیں پیدا کیا تھا۔ بلکہ تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم نے تمہارے لیے کوئی [45] وعدہ کا وقت مقرر ہی نہیں کیا تھا۔
[44] ننگے بدن حشر:۔
جس طرح پہلی بار اکیلے پیدا ہوئے تھے صحیح و سالم پیدا ہوئے تھے بالکل برہنہ پیدا ہوئے اسی طرح ان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا چنانچہ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن بن ختنہ اکٹھے کیے جائیں گے“ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اس طرح تو مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ وقت اتنا سخت ہو گا کہ ان باتوں کی کسی کو ہوش ہی نہ ہو گی“[بخاري، كتاب الرقاق، باب كيف الحشر]
[45] اس وقت آخرت کے منکروں سے یہ کہا جائے گا کہ جس بات کا تم انکار کرتے رہے تھے۔ کیا اب وہ بات حقیقت بن کر تمہارے سامنے نہیں آگئی؟