🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة مريم
قَالَ کَذٰلِکِ ۚ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ ۚ وَ لِنَجۡعَلَہٗۤ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحۡمَۃً مِّنَّا ۚ وَ کَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِیًّا ﴿۲۱﴾
اس نے کہا ایسے ہی ہے، تیرے رب نے کہا ہے یہ میرے لیے آسان ہے اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے بہت بڑی نشانی اور اپنی طرف سے عظیم رحمت بنائیں اور یہ شروع سے ایک طے کیا ہوا کام ہے۔[21]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
21۔ وہ بولے ہاں! ایسا [22] ہی ہو گا تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ میرے لئے یہ آسان سی بات ہے اور اس لیے بھی (ایسا ہو گا) کہ ہم اس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور وہ ہماری طرف سے رحمت ہو گا اور یہ کام ہو کے رہے گا
[22] سیدنا عیسیٰؑ کی پیدائش خود ایک معجزہ تھی:۔

یعنی نا ممکن ہونے کے باوجود ممکن ہے اور ایسا ہوکے رہے گا کیونکہ اللہ کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ اور یہ اس لئے ہو گا کہ ہم اس لڑکے کو تمام لوگوں کے لئے ایک زندہ جاوید معجزہ بنا دیں۔ پھر یہ لڑکا ہماری طرف سے تمہارے لئے از راہ رحم و کرم عطیہ بھی ہے اور تمام لوگوں کے لئے بھی رحمت ثابت ہو گا۔ واضح رہے کہ تخلیق کے لئے چار ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ ماں اور باپ دونوں سے پیدا ہو، یہ صورت عام ہے اور سب انسان یا جاندار ایسے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ دوسری یہ کہ ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہو۔ اس طرح سیدنا آدم کو پیدا کیا گیا۔ تیسری یہ کہ صرف مرد سے پیدا ہو۔ جیسے سیدہ حوا کو آدم سے پیدا کیا گیا۔ اور چوتھی یہ کہ صرف عورت سے پیدا ہو۔ یہ صورت ابھی تک وجود میں نہ آئی تھی جو سیدنا عیسیٰ کی پیدائش سے پوری ہو گئی۔