قَالَ بَلۡ اَلۡقُوۡا ۚ فَاِذَا حِبَالُہُمۡ وَ عِصِیُّہُمۡ یُخَیَّلُ اِلَیۡہِ مِنۡ سِحۡرِہِمۡ اَنَّہَا تَسۡعٰی ﴿۶۶﴾
کہا بلکہ تم پھینکو، تو اچانک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں، اس کے خیال میں ڈالا جاتا تھا، ان کے جادو کی وجہ سے کہ واقعی وہ دوڑ رہی ہیں۔[66]
66۔ موسیٰ نے کہا: ”تم ہی ڈالو“ پھر ان کے جادو کے اثر سے ایسا معلوم ہوتا تھا ان کی رسیاں اور لاٹھیاں یکدم دوڑنے لگی ہیں۔